طرز زندگی تازہ خبریں
کیوبا کے صدر کا انکار، روس کی حمایت سے امریکا کو واضح پیغام

 کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کینیل نے امریکا کے دباؤ میں آ کر استعفیٰ دینے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ کیوبا ایک خودمختار ملک ہے جو اپنے سیاسی فیصلے مکمل آزادی کے ساتھ کرتا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے زور دیا کہ بیرونی طاقتیں، خاص طور پر واشنگٹن، کیوبا کی قیادت کے بارے میں فیصلے کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتیں، اور یہ کہ انقلابی رہنما دباؤ میں آ کر اقتدار چھوڑنے کے قائل نہیں ہوتے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہوانا اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکا نے کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دے کر اپنا دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں جزیرے میں پہلے سے جاری شدید توانائی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ اس سال کے آغاز میں وینزویلا سے تیل کی فراہمی میں رکاوٹ کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے، جس سے کیوبا کو اپنی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ان چیلنجز کے درمیان روس نے کیوبا کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا ہے اور مسلسل تعاون جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ ہوانا کے حالیہ دورے کے دوران روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو اپنے دیرینہ اتحادی کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور حالیہ تیل کی فراہمی سے آگے بڑھ کر اپنی مدد کو مزید وسعت دے گا۔

روس کی جانب سے اس نئی حمایت نے ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی کشمکش کو بھی نمایاں کر دیا ہے، جہاں کیوبا ایک طرف امریکا کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور دوسری طرف ماسکو کے 
ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر اپنے معاشی اور توانائی کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
News Image

کینیڈین ماں کی حراست کی کہانی، مہاجر خاندانوں کی مشکلات بے نقاب

  • ایک کینیڈین خاتون نے ٹیکساس میں اپنی اور اپنی بیٹی کی حراست کے دوران پیش آنے والی سختیوں اور مہاجر خاندانوں کے مسائل بیان کیے۔
BY Muhammad Ajmal ·