جاپان نے خبردار کیا ہے کہ اگر آکلینڈ میں “کمفرٹ ویمن” کا مجوزہ مجسمہ نصب کیا گیا تو نیوزی لینڈ کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے جنگی تاریخ کی تشریحات پر جاری کشیدگی ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے۔
یہ کانسی کا مجسمہ، جس میں ایک بیٹھی ہوئی لڑکی کے ساتھ ایک خالی کرسی دکھائی گئی ہے، کوریائی کونسل برائے انصاف و یادداشت کی جانب سے عطیہ کیا گیا ہے تاکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جنسی غلامی کا شکار ہونے والی خواتین کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔ اسے آکلینڈ کے بیریز پوائنٹ ریزرو میں قائم کوریائی ثقافتی باغ میں نصب کرنے کی تجویز ہے، جس کی منظوری اسی ماہ متوقع ہے۔
“کمفرٹ ویمن” کا مسئلہ انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے، جہاں مؤرخین کے مطابق تقریباً 200000 خواتین—جن میں کوریا، چین اور ایشیا کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں—کو 1932 سے 1945 کے درمیان جاپانی فوجیوں کے لیے جبری جنسی خدمت پر مجبور کیا گیا۔ متاثرین نے اس اصطلاح پر بھی تنقید کی ہے، کیونکہ ان کے مطابق یہ ان پر ہونے والے ظلم، بار بار جنسی تشدد، ناقص طبی سہولیات اور غیر انسانی حالات کو کم کر کے پیش کرتی ہے۔
آکلینڈ کونسل کو جمع کرائی گئی ایک درخواست میں جاپان کے سفیر ماکوتو اوسوا نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کا مجسمہ نہ صرف نیوزی لینڈ کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ جنوبی کوریا کے ساتھ جاپان کے تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ جاپانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ 2015 کے ایک معاہدے کے تحت حل ہو چکا تھا، جس میں متاثرین کے لیے مالی امداد بھی شامل تھی، تاہم بعد میں جنوبی کوریا کی قیادت نے اس معاہدے پر تنقید کی اور اسے جزوی طور پر ختم کر دیا۔
جاپانی سفارتخانے نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ دیگر ممالک میں ایسے مجسموں نے سفارتی تنازعات اور سماجی تقسیم کو جنم دیا ہے، جہاں ماضی میں بین الاقوامی تعلقات متاثر ہوئے۔
دوسری جانب، نیوزی لینڈ کے حکام نے اس معاملے کی حساسیت کو تسلیم کیا ہے، لیکن واضح کیا ہے کہ عوامی یادگاروں کے حوالے سے فیصلے مقامی حکام اور کمیونٹیز کے اختیار میں ہوتے ہیں۔
آکلینڈ میں عوامی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے، جہاں کونسل کو موصول ہونے والی آراء میں حمایت اور مخالفت دونوں شامل ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ تاریخی ناانصافیوں کی یاد دہانی اور جنسی تشدد کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہوگا، جبکہ ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس سے سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔
فیصلے کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ، یہ معاملہ تاریخی یادداشت، ذمہ داری اور عالمی سفارتکاری پر
وسیع بحث کا مرکز بن چکا ہے۔