طرز زندگی تازہ خبریں
برطانیہ اور ناروے کی کارروائی، روسی آبدوزوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور

 برطانیہ اور ناروے نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر شمالی بحرِ اوقیانوس میں کئی ہفتوں پر مشتمل ایک فوجی آپریشن کیا، جس کا مقصد ان روسی آبدوزوں کو روکنا تھا جن پر اہم زیرِ سمندر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا شبہ تھا۔

برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی کے مطابق، اس آپریشن میں رائل نیوی کا ایک جنگی جہاز، طیارے اور سینکڑوں اہلکار شامل تھے، جنہوں نے برطانیہ کے شمال میں اہم مواصلاتی کیبلز کے قریب موجود ایک روسی حملہ آور آبدوز اور دو جاسوسی جہازوں کی نگرانی کی۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی کامیاب رہی اور آبدوزوں کو مشتبہ سرگرمیوں سے روکتے ہوئے آخرکار انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا گیا۔

برطانیہ اور ناروے دونوں نے ان سرگرمیوں کو روس کے ایک مخصوص ادارے سے جوڑا ہے، جو گہرے سمندر کی تحقیق کے ساتھ ساتھ زیرِ سمندر ڈھانچے کی نقشہ سازی اور ممکنہ تخریب کاری میں مہارت رکھتا ہے۔

مغربی ممالک نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ایسے جہاز عالمی مواصلاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اگرچہ روس نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس ممکنہ طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی جیسے عالمی مسائل سے توجہ ہٹنے کا فائدہ اٹھا کر یورپی پانیوں میں اپنی خفیہ سرگرمیوں کو بڑھا رہا ہے۔

یہ پیش رفت نیٹو اتحادیوں کے درمیان اہم سمندری انفراسٹرکچر کی سیکیورٹی سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتی ہے اور روس کے ساتھ جاری کشیدگی کو مزید اجاگر کرتی ہے۔
News Image

کینیڈین ماں کی حراست کی کہانی، مہاجر خاندانوں کی مشکلات بے نقاب

  • ایک کینیڈین خاتون نے ٹیکساس میں اپنی اور اپنی بیٹی کی حراست کے دوران پیش آنے والی سختیوں اور مہاجر خاندانوں کے مسائل بیان کیے۔
BY Muhammad Ajmal ·