ایران کے ساتھ جاری بحران نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس حکمت عملی کی حدود کو نمایاں کر دیا ہے، جو طاقت، دباؤ اور کشیدگی کے ذریعے سیاسی اور جغرافیائی اہداف حاصل کرنے پر مبنی ہے۔ طویل عرصے سے غلبے اور سختی پر مبنی یہ انداز اب عالمی اور داخلی سطح پر مزاحمت کا سامنا کر رہا ہے، جس سے اس کی مؤثریت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ایران کے ساتھ تنازع اس حکمت عملی کا سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے، جہاں تہران فوجی دباؤ اور معاشی پابندیوں کے باوجود امریکی مطالبات کو ماننے سے انکار کر رہا ہے۔
کشیدگی بڑھانے کے فیصلے، جیسے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی کوشش، ایران کی معیشت کو نشانہ بنا کر برتری حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔ تاہم اس طرح کے اقدامات کے ساتھ بڑے خطرات بھی جڑے ہیں، جن میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، معاشی عدم استحکام اور داخلی سیاسی ردعمل شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی مذاکرات کو ممکن تو بنا سکتی ہے، مگر بحران کو مزید گہرا بھی کر سکتی ہے۔
ایران کے علاوہ بھی ٹرمپ کو کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ نیٹو اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل نہ ہونے کے باعث امریکا کے فوجی آپشنز محدود ہو گئے ہیں، جبکہ چین جیسے عالمی طاقتیں بھی امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہیں، خاص طور پر معاشی میدان میں۔
دوسری جانب ایران نے عالمی توانائی منڈیوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط بنائی ہے، جس سے واشنگٹن کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی کچھ سیاسی دھچکوں نے ان حدود کو واضح کیا ہے۔ ہنگری میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے ایک اہم اتحادی کی حالیہ شکست نے ٹرمپ کے عالمی اثر و رسوخ کو متاثر کیا ہے۔
ملکی سطح پر بھی عوامی ردعمل اور ادارہ جاتی رکاوٹیں صدارتی اختیارات پر قدغن لگا رہی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مکمل اختیار کا دعویٰ عملی طور پر محدود ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال یہ اشارہ دیتی ہے کہ صرف تصادم اور یکطرفہ اقدامات پر مبنی طاقت ہر وقت مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی، اور اگر یہ حکمت عملی ناکام ہو جائے تو اس کے نتائج بھی دور رس ہو سکتے ہیں۔