طرز زندگی تازہ خبریں
گوفمین موساد کے سربراہ مقرر، ایران حکمت عملی پر سوالات

 اسرائیل کے نئے موساد سربراہ رومن گوفمین، جو وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، ایران کے خلاف جنگ سے متعلق اپنی سابقہ پیش گوئیوں کے باعث تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔

گوفمین، جو اس وقت نیتن یاہو کے فوجی سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اس مؤقف کے حامی تھے کہ مسلسل فوجی دباؤ اور انٹیلی جنس کارروائیاں تہران میں حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ رائے سبکدوش ہونے والے موساد سربراہ ڈیوڈ برنیا نے بھی دی تھی، جو 2021 سے اس عہدے پر فائز تھے اور امریکا و اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے دوران اہم مشیر رہے۔

حکمت عملی کے تحت ایران کی قیادت اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، اس امید کے ساتھ کہ اندرونی بغاوت جنم لے گی۔ تاہم، وسیع فوجی کارروائیوں اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے باوجود ایران میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی سامنے نہیں آئی، بلکہ نئی قیادت مزید سخت مؤقف اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے اور پاسداران انقلاب کے قریب سمجھی جاتی ہے۔

49 سالہ گوفمین بیلاروس میں پیدا ہوئے اور نوجوانی میں اسرائیل منتقل ہو گئے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کے بکتر بند یونٹ میں 30 سے زائد سال خدمات انجام دیں اور کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ وہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں شدید زخمی ہوئے تھے، تاہم بعد میں واپس آ کر نیتن یاہو کے اہم فوجی مشیر کے طور پر مختلف محاذوں پر فیصلوں میں شامل رہے۔

ان کی موساد کے سربراہ کے طور پر تقرری غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ان کا تعلق براہ راست انٹیلی جنس ادارے کے بجائے فوج سے ہے۔ نیتن یاہو نے انہیں جرات مند اور تخلیقی افسر قرار دیا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس عہدے کے لیے درکار انٹیلی جنس تجربہ محدود ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی وزیر اعظم سے قربت نے تقرری میں اہم کردار ادا کیا۔

تقرری کا عمل ایک تنازع کے باعث تاخیر کا شکار بھی رہا، جس میں 2022 کے ایک واقعے میں گوفمین پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک نوجوان کے ذریعے حساس معلومات جاری کروائیں۔ وہی فرد بعد میں ان کے سخت ناقد کے طور پر سامنے آیا اور عدالت میں بھی اس تقرری کو چیلنج کیا۔

گوفمین کی تقرری ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب نیتن یاہو 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل کی سکیورٹی قیادت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر رہے ہیں، جنہیں ملک کی سب سے بڑی سکیورٹی ناکامیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کئی اعلیٰ عہدیدار مستعفی ہو چکے ہیں یا تبدیل کیے جا چکے ہیں، جبکہ گوفمین کی تعیناتی کے بعد نیتن یاہو ان چند رہنماؤں میں شامل رہ جائیں گے جو اس دور سے اب تک اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔
News Image

کینیڈین ماں کی حراست کی کہانی، مہاجر خاندانوں کی مشکلات بے نقاب

  • ایک کینیڈین خاتون نے ٹیکساس میں اپنی اور اپنی بیٹی کی حراست کے دوران پیش آنے والی سختیوں اور مہاجر خاندانوں کے مسائل بیان کیے۔
BY Muhammad Ajmal ·