امریکیوں کے چین کے بارے میں خیالات میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں ایک نئے سروے کے مطابق جاری جغرافیائی کشیدگی کے باوجود مثبت رائے میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ تبدیلی گزشتہ برسوں کے برعکس ہے، جب کووڈ 19 وبا کے دوران چین مخالف جذبات میں اضافہ ہوا تھا اور ایشیائی افراد کے خلاف نفرت انگیز واقعات بھی بڑھے تھے۔ 2023 تک صرف کم تعداد میں امریکی چین کے بارے میں مثبت رائے رکھتے تھے، تاہم اب یہ شرح تقریباً دگنی ہو کر 27 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ رجحان خاص طور پر نوجوان امریکیوں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں میں زیادہ نمایاں ہے، جو چین کے بارے میں زیادہ کھلا رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر امریکی اب بھی چین کو ایک بڑا حریف سمجھتے ہیں، لیکن اب کم لوگ اسے براہ راست دشمن قرار دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق چین سے متعلق پالیسیوں پر ٹرمپ کی کارکردگی پر اعتماد میں بھی کمی آئی ہے، جو ان کے عالمی معاملات سے نمٹنے کے طریقے پر بڑھتے ہوئے شکوک کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی دوران چینی صدر شی جن پنگ کے بارے میں بھی رائے میں معمولی بہتری آئی ہے، اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ امریکی ان کے عالمی کردار پر اعتماد ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے رہنما اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔
ثقافتی تبادلے بھی عوامی رائے کو متاثر کر رہے ہیں، جہاں سوشل میڈیا اور آن لائن رجحانات کے ذریعے امریکی عوام کو چینی طرزِ زندگی، مصنوعات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔
چین کے فیشن آئٹمز، کھلونوں اور سوشل ایپس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی فاصلے کو کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
عالمی سطح پر بھی اسی طرح کے رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں، جہاں کینیڈا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں بھی چین کے بارے میں رائے میں تبدیلی آ رہی ہے۔
اگرچہ کچھ ثقافتی رجحانات وقتی ہو سکتے ہیں، لیکن یہ تبدیلی ایک گہرے رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جو مستقبل میں امریکا اور چین کے تعلقات، تجارت اور سفارت کاری پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔