طرز زندگی تازہ خبریں
مارک کارنی کو واضح اکثریت، ٹرمپ پالیسیوں کے مقابلے کی تیاری

 کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اپنی لبرل پارٹی کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کر لی ہے، جس کے بعد ان کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

لبرل پارٹی کے 173 نشستیں حاصل کرنے کا امکان ہے، جو ایوانِ زیریں میں اکثریت کے لیے درکار حد سے کچھ زیادہ ہیں۔ کیوبیک میں ایک قریبی مقابلہ ابھی باقی ہے، تاہم موجودہ نتائج نے کارنی کی حکومت کو مستحکم کر دیا ہے۔

کارنی کا اقتدار سنبھالنا جسٹن ٹروڈو کے استعفے کے بعد ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے ٹرمپ کی “امریکا فرسٹ” پالیسی پر کھل کر تنقید کی، خاص طور پر تجارتی محصولات اور کینیڈا کو امریکا میں شامل کرنے جیسے بیانات کی مخالفت کی۔

اکثریت ملنے کے بعد کارنی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایسی پالیسیوں کو تیز کریں گے جن کا مقصد امریکا پر معاشی انحصار کم کرنا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانا ہے۔ ان کا انداز نسبتاً متوازن قرار دیا جا رہا ہے، جس میں احترام کے ساتھ مگر بغیر کسی جھکاؤ کے معاملات طے کرنے کی حکمت عملی شامل ہے۔

ٹرمپ کے سخت مؤقف نے کینیڈا میں قومی اتحاد کو بھی فروغ دیا ہے، جہاں کئی شہریوں نے امریکا کا سفر کم کر دیا اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا، جو عوامی سوچ میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ کارنی نے اس رجحان کو قومی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے موقع کے طور پر پیش کیا ہے۔

تاہم اپوزیشن ارکان کو اپنی جماعت میں شامل کرنے کی پالیسی پر کچھ حلقوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس سے پارٹی کے بنیادی اصول متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر حساس سماجی معاملات پر۔

اندرونی اختلافات کے باوجود، کارنی کی مضبوط اکثریت انہیں ایسے وقت میں اہم سیاسی طاقت فراہم کرتی ہے جب دنیا بھر میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، اور کینیڈا کو عالمی سطح پر زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
News Image

کینیڈین ماں کی حراست کی کہانی، مہاجر خاندانوں کی مشکلات بے نقاب

  • ایک کینیڈین خاتون نے ٹیکساس میں اپنی اور اپنی بیٹی کی حراست کے دوران پیش آنے والی سختیوں اور مہاجر خاندانوں کے مسائل بیان کیے۔
BY Muhammad Ajmal ·