امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے حوالے سے پوپ لیو چودھویں کے مؤقف پر سخت تنقید کی ہے اور انہیں خارجہ پالیسی کے لیے نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے خیالات سے متفق نہیں ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے جہاں سیاسی اور مذہبی قیادت کے درمیان کھلا تصادم دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب پوپ لیو نے ایران کے خلاف امریکی بیانات اور فوجی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا اور امن و مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔
ٹرمپ نے پوپ پر الزام لگایا کہ وہ امریکی پالیسی کو کمزور کر رہے ہیں اور کہا کہ انہیں عوامی طور پر امریکی صدر پر تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے عالمی تنازعات اور جوہری معاملات پر بھی پوپ کے خیالات پر سوال اٹھایا۔
پوپ لیو، جو امریکا میں پیدا ہونے والے پہلے پوپ ہیں، مسلسل جنگ کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مذہب کو تشدد کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمان کو کسی بھی تنازع کی حمایت کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
یہ صورتحال ویٹیکن کی جانب سے تحمل اور سفارت کاری کے مطالبے اور امریکی حکومت کے سخت مؤقف کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتی ہے، جو ایران تنازع کے حوالے سے عالمی سطح پر کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔