جنگ بندی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔ امریکہ نے مسلسل چھٹی رات ایران کے مختلف فوجی مراکز پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی جہازوں کا استعمال کیا گیا۔ حملوں میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹکس اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اسی دوران ایران کی چابہار بندرگاہ پر بھی میزائل حملہ کیا گیا، جس سے میری ٹائم کنٹرول ٹاور کو نقصان پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران اس ٹاور پر یہ تیسرا حملہ ہے۔
ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر زمینی کارروائی کی گئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب باب المندب اور آبنائے ہرمز میں بھی صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، جبکہ بھارت نے احتیاطی اقدام کے طور پر اس راستے سے گزرنے والے جہازوں پر نئے بھارتی ملاح تعینات نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ کروڈ 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم کامیابی کی جانب بڑھ رہی ہے اور اس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
Al generated image 




.jpg)
.jpg)




.webp)


