دہلی میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے اعلان کردہ "چلو پارلیمنٹ" مارچ کے دوران جنتر منتر پر کشیدہ صورتحال دیکھنے میں آئی۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، تاہم دہلی پولیس نے بیریکیڈز لگا کر انہیں روک دیا۔
مارچ کے دوران بعض مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان دھکا مکی بھی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے کارروائی کی۔ علاقے میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد تعینات رہی۔
سکیورٹی کے پیش نظر جنتر منتر اور اطراف میں کئی سطحوں پر بیریکیڈنگ کی گئی۔ مظاہرے میں داخل ہونے والے افراد کے بیگز کی اسکیننگ اور دو مرحلوں میں تلاشی لی گئی۔ موقع پر رائٹ کنٹرول گاڑیاں، ایمبولینسز اور ہنگامی ٹیمیں بھی موجود رہیں جبکہ اعلیٰ پولیس افسران مسلسل صورتحال پر نظر رکھتے رہے۔
پولیس حکام کے مطابق پارلیمنٹ مارچ کے لیے کوئی سرکاری اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔ نئی دہلی ضلع میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا کی دفعہ 163 نافذ ہے، جس کے تحت بڑے اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی عائد ہے۔
سونم وانگچک کو طبیعت خراب ہونے کے باعث اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد مظاہرین میں ناراضی مزید بڑھ گئی تھی، جس کے بعد مختلف ریاستوں سے طلبہ، نوجوان اور حامی بڑی تعداد میں جنتر منتر پہنچے۔
CJP کا کہنا ہے کہ وہ تعلیمی اصلاحات سے متعلق اپنی مطالبات پر حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم تنظیم کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔





.jpg)
.jpg)




.webp)


