پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا آغاز سیاسی ہنگامے کے ساتھ ہوا۔ اجلاس کے پہلے ہی دن اپوزیشن اراکین نے نیٹ یو جی پیپر لیک، رام مندر چندہ چوری، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر قومی مسائل پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ کئی اراکین پوسٹر اور بینر لے کر ایوان میں پہنچے، جس سے کارروائی متاثر ہوئی۔
مسلسل ہنگامے کے باعث اسپیکر نے لوک سبھا کی کارروائی مختصر وقت بعد دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کر دی۔
اجلاس شروع ہونے سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں دلیل، حقائق اور مثبت سوچ کے ساتھ بحث ہونی چاہیے تاکہ ملک کی ترقی میں مدد مل سکے۔ انہوں نے نوجوانوں کی کامیابیوں، خلائی شعبے میں پیش رفت، گرین ہائیڈروجن ٹرین اور بھارت کی معاشی ترقی کا بھی ذکر کیا۔
راجیہ سبھا میں قومی احترام ترمیمی بل 2026 پیش کیے جانے کی تیاری ہے، جس کے تحت "وندے ماترم" کو قومی ترانے کے برابر قانونی تحفظ دینے کی تجویز شامل ہے۔ اگر بل منظور ہو جاتا ہے تو اس کی توہین یا گانے میں رکاوٹ ڈالنا قابلِ سزا جرم ہوگا۔
لوک سبھا میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد 34 سے بڑھا کر 38 کرنے کا بل بھی پیش کیا جائے گا تاکہ زیر التوا مقدمات کے جلد فیصلے ممکن ہو سکیں۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس سے قبل مشترکہ حکمت عملی طے کی اور فیصلہ کیا کہ عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔ آئندہ دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اہم بلوں اور قومی معاملات پر تفصیلی بحث متوقع ہے





.jpg)
.jpg)




.webp)


