تازہ خبریں طرز زندگی
پارلیمنٹ مارچ پر کشیدگی، سیکیورٹی سخت، مذاکرات شروع


نئی دہلی میں پیر کے روز پارلیمنٹ مارچ کے دوران مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، جس کے بعد سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے۔ پارلیمنٹ کے اطراف اضافی پولیس اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔

پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے کارروائی کی، جس کے بعد کچھ دیر کے لیے کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوئی، تاہم بعد میں ہجوم منتشر ہو گیا۔

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، اس لیے بات چیت مکمل ہونے تک احتجاج اور پارلیمنٹ مارچ کو عارضی طور پر ملتوی کیا جا رہا ہے۔

تحریک کے نمائندوں نے حکومتی قیادت سے ملاقات کی۔ اسی دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے درمیان بھی ملاقات ہوئی۔ مظاہرین کے اہم مطالبات میں وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ شامل ہے۔

سماجی کارکن سونم وانگچک نے اسپتال انتظامیہ سے درخواست کی کہ انہیں ڈسچارج کیا جائے تاکہ وہ پارلیمنٹ مارچ میں شریک ہو سکیں۔

دوسری جانب، سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے آنگمو نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے علاج اور طبی رضامندی سے متعلق حقوق کا معاملہ اٹھایا۔

دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی تشدد اور گرفتاریوں کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال کو پُرامن اور پیشہ ورانہ انداز میں سنبھالا گیا۔ عوام سے افواہوں پر یقین نہ کرنے کی اپیل بھی کی گئی۔

احتیاطی تدابیر کے طور پر دہلی کے کئی اہم میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے۔ پولیس کے مطابق اس مارچ کے لیے کوئی سرکاری اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔