پارلیمنٹ مارچ کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دوبارہ احتجاج شروع کر دیا ہے۔ این ڈی اے پارلیمانی اجلاس میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی۔
CJP رہنماؤں نے پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مظاہرین کے ساتھ سختی کی گئی۔ سونم وانگچک نے اپنا بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
دہلی پولیس نے واقعے کے بعد کئی ایف آئی آر درج کی ہیں اور سی سی ٹی وی، ڈرون اور دیگر ویڈیوز کی مدد سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق متعدد اہلکار اور مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
اس دوران رکنِ پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد نے بھی پارلیمنٹ احاطے میں احتجاج کیا اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
ادھر CJP کے وفد نے جے پی نڈا سے ملاقات کر کے اپنی تین اہم مطالبات پیش کیے، جن میں سونم وانگچک کی رہائی، وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ شامل ہے۔
صفدر جنگ اسپتال کے مطابق سونم وانگچک کی حالت مستحکم ہے، تاہم ان کا بلڈ شوگر معمول سے کم ہے اور ڈاکٹروں کی نگرانی جاری ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی ان کی میڈیکل رپورٹ طلب کی ہے۔





.jpg)
.jpg)




.webp)


