تازہ خبریں طرز زندگی
پیپر لیک معاملہ، جنتر منتر پر احتجاج جاری

 


نئی دہلی: پیپر لیک معاملے پر جنتر منتر میں جاری احتجاج منگل کو بتیسویں روز بھی جاری رہا۔ صبح سے بڑی تعداد میں مظاہرین وہاں موجود رہے۔ پولیس کی آمد پر مظاہرین نے نعرے بازی کی۔ پارلیمنٹ مارچ کے بعد پیر کی شام پولیس نے جنتر منتر خالی کرا دیا تھا، تاہم کچھ دیر بعد مظاہرین دوبارہ جمع ہو گئے۔

این ڈی اے پارلیمانی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی۔

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ اس معاملے میں جوابدہی طے ہونی چاہیے۔ انہوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے طلبہ سے معافی مانگنے اور ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی رہنما ابھجیت دیپکے نے کہا کہ فی الحال پارلیمنٹ مارچ نہیں نکالا جائے گا۔ ان کا الزام ہے کہ گزشتہ روز پولیس کارروائی میں کئی طلبہ زخمی ہوئے، اس لیے احتجاج جاری رہے گا۔

سونم وانگچک نے بھی اپنا بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کارروائی دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا۔

اس دوران اکھلیش یادو، ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی، ششی تھرور، کپل سبل، کے سی وینوگوپال اور اروند کیجریوال سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں نے پولیس کارروائی پر سوال اٹھائے اور حکومت سے جواب طلب کیا۔

دہلی پولیس نے پارلیمنٹ مارچ کے دوران مبینہ ہنگامہ آرائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سرکاری اہلکاروں پر حملے کے الزام میں پانچ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا کی مدد سے تحقیقات کر رہی ہے۔