تعلیمی اصلاحات، امتحانی نظام میں شفافیت اور مبینہ پیپر لیک معاملات کے خلاف دہلی کے جنتر منتر میں جاری کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج کو اب فلمی دنیا سے بھی مختلف ردعمل مل رہا ہے۔ سینئر اداکارہ شبانہ اعظمی اور اداکار پرکاش راج خود احتجاجی مقام پر پہنچے اور مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
شبانہ اعظمی نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے اور حکومت کو تعلیمی معاملات پر مؤثر بات چیت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اس تحریک کا مقصد ہنگامہ آرائی نہیں بلکہ تعلیم کے نظام میں بہتری اور طلبہ کے مستقبل کا تحفظ ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ دیگر فلمی شخصیات احتجاج میں کیوں نظر نہیں آئیں تو انہوں نے کہا کہ سوال صرف فلمی ستاروں سے کیے جاتے ہیں، جبکہ بڑے صنعت کاروں اور بااثر افراد سے ایسے سوال کم پوچھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلے پر توجہ دی جانی چاہیے۔
اداکار پرکاش راج نے بھی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے اور طلبہ کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے احتجاج کی حمایت کا اظہار کیا۔
دوسری جانب اداکارہ اور رکنِ پارلیمان کنگنا رناوت نے پارلیمنٹ مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے تھے کہ پارلیمنٹ کی سکیورٹی مزید سخت کرنا پڑی۔ انہوں نے دہلی پولیس کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس نے مشکل حالات میں قانون و امن برقرار رکھا۔
بی جے پی رکنِ پارلیمان ہیما مالنی نے بھی احتجاج کے انداز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ احتجاج جمہوری حق ضرور ہے، مگر اس سے عوامی زندگی اور امن و امان متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
ادھر سی جے پی کے مظاہرین تعلیمی اصلاحات، امتحانی نظام میں شفافیت، مبینہ پیپر لیک معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر قائم ہیں۔ احتجاجی قیادت نے حکومت سے بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔





.jpg)
.jpg)




.webp)


