*ممبئی:* ممبئی میں CJP کی قیادت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران ایک وائرل ویڈیو نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں ایک وردی پوش پولیس اہلکار مبینہ طور پر زیرِ حراست طلبہ کو دوبارہ احتجاج میں شامل نہ ہونے کی دھمکی دیتا دکھائی دیتا ہے۔
گزشتہ چند دنوں سے شیواجی پارک، چیمبور اور آزاد میدان سمیت مختلف مقامات پر طلبہ اور شہری احتجاج کر رہے ہیں۔ انہی مظاہروں کے دوران کچھ مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے ایک پولیس وین کے اندر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
ویڈیو میں مبینہ طور پر پولیس اہلکار طلبہ کو خبردار کرتا ہے کہ اگر وہ دوبارہ احتجاج میں نظر آئے تو ان کی زندگی برباد کر دے گا۔ ویڈیو میں یہ بھی مبینہ طور پر سنا جا سکتا ہے کہ وہ طلبہ کے بیگ میں منشیات رکھ کر جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی بات کر رہا ہے۔ تاہم ان بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور معاملے کی سرکاری تحقیقات جاری ہیں۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے اس معاملے پر سوالات اٹھائے۔ کانگریس نے کہا کہ اگر ویڈیو درست ہے تو یہ طلبہ کو ڈرانے اور ان کے جمہوری حقوق کو دبانے کی سنگین کوشش ہے، جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ممبئی پولیس نے واقعے کی محکمانہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک ویڈیو میں نظر آنے والے پولیس اہلکار کو اس کی موجودہ تعیناتی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ آئندہ کارروائی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر کی جائے گی۔
دوسری جانب بعض مظاہرین نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس نے فون کالز، میسجز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بعض اسکرین شاٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ افراد کو گھر میں رہنے اور اپنی لائیو لوکیشن مسلسل شیئر کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ان دعوؤں کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے اس حوالے سے تفصیلی بیان کا انتظار ہے۔
اس پورے معاملے نے احتجاج کے حق، پولیس کے اختیارات اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب سب کی نظریں جاری تحقیقات کی رپورٹ پر ہیں، جس سے آئندہ کارروائی کا فیصلہ ہوگا۔





.jpg)
.jpg)




.webp)


