تازہ خبریں طرز زندگی
دھرمندر پردھان کے استعفے بغیر سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال کیوں ختم کی؟


نئی دہلی: سماجی کارکن سونم وانگچک نے اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اُن کے لیے وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کا استعفیٰ حاصل کرنا سب سے اہم مقصد نہیں تھا، بلکہ احتجاج میں شامل طلبہ اور نوجوانوں کو قانونی کارروائی سے محفوظ رکھنا اُن کی اولین ترجیح تھی۔

وانگچک کے مطابق مرکزی حکومت نے تحریری یقین دہانی دی ہے کہ پُرامن مظاہرین کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں امتحانی اصلاحات، پیپر لیک کے معاملات اور تعلیمی نظام میں جوابدہی پر تفصیلی بحث کرنے کے ساتھ ساتھ NEET پیپر لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینے پر بھی غور کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 28 جون سے شروع ہونے والی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا مقصد امتحانی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور طلبہ کے حقوق کا تحفظ تھا۔ اگرچہ کئی افراد وزیرِ تعلیم کے استعفے کو بنیادی مطالبہ قرار دے رہے تھے، لیکن مذاکرات کے دوران طلبہ کو ممکنہ قانونی کارروائی سے بچانا زیادہ ضروری محسوس ہوا۔

ہسپتال سے جاری اپنے ویڈیو پیغام میں وانگچک نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ استعفے کا معاملہ وقت کے ساتھ خود ہی اپنے انجام تک پہنچ جائے گا، جبکہ طلبہ کے خلاف ایف آئی آر اور دیگر قانونی اقدامات کا خطرہ فوری نوعیت کا تھا۔ اسی لیے انہوں نے حکومت سے تحریری ضمانت پر زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں صرف زبانی یقین دہانی دی گئی تھی، لیکن وہ اس وقت تک بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے جب تک حکومت نے تحریری طور پر یقین دہانی نہیں کرائی۔ تحریری وعدہ ملنے کے بعد ہی انہوں نے اپنا احتجاج ختم کیا۔

حکومت کے ساتھ کسی خفیہ معاہدے یا "ڈیل" کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وانگچک نے کہا کہ اگر سمجھوتہ ہی مقصد ہوتا تو وہ 26 دن تک سخت بھوک ہڑتال نہ کرتے۔ اُن کے مطابق ہر فیصلہ طلبہ کے تحفظ اور پُرامن احتجاج کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے، اسی لیے انہوں نے بروقت بھوک ہڑتال ختم کر کے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

وانگچک نے واضح کیا کہ امتحانی اصلاحات، شفافیت اور طلبہ کے حقوق کے لیے جاری تحریک ختم نہیں ہوئی بلکہ آئندہ بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس بھی ظاہر کیا کہ جب انہوں نے بھوک ہڑتال ختم کی تو اُن کے کئی ساتھی، طلبہ اور حامی اُس وقت موجود نہیں تھے۔