نئی دہلی:* جنتر منتر میں جاری سی جے پی احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹس، تصاویر اور ویڈیوز کے حوالے سے دہلی پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں اہم دعوے کیے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ایسے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی ہے جو مبینہ طور پر پاکستان سے چلائے جا رہے ہیں اور احتجاج سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 400 سے زائد سوشل میڈیا ہینڈلز کی شناخت کی جا چکی ہے جن پر اے آئی سے تیار کردہ مواد، ڈیپ فیک ویڈیوز، ایڈیٹ شدہ تصاویر اور دیگر گمراہ کن مواد شیئر کرنے کا الزام ہے۔ پولیس کے مطابق متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ رابطہ کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ بعض پوسٹس میں سینئر افسران کے بیانات کو ایڈیٹ کر کے غلط انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ کئی ویڈیوز اور تصاویر میں ردوبدل کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
ڈی سی پی سینٹرل روہت راجبیر سنگھ نے عوام سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ہر خبر پر فوراً یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ویڈیو، تصویر یا پوسٹ کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچنا ضروری ہے تاکہ جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
دہلی پولیس کے مطابق اس کی سائبر اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹیمیں مسلسل آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مشتبہ مواد کی جانچ کی جا رہی ہے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر گمراہ کن معلومات کو روکنے کی کوشش جاری ہے۔
پولیس نے عوام سے ذمہ داری کے ساتھ سوشل میڈیا استعمال کرنے اور مشکوک مواد کی اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی بھی اپیل کی ہے۔