تازہ خبریں طرز زندگی
سپریم کورٹ کی سخت رائے، پرامن احتجاج آئینی حق قرار


*نئی دہلی:* نیٹ پیپر لیک معاملے میں 20 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران ہونے والے لاٹھی چارج پر سپریم کورٹ نے اہم ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کرنے کا بنیادی حق دیتا ہے، اس لیے صرف احتجاج ہونے کی وجہ سے لاٹھی چارج یا طاقت کا استعمال جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب عدالت ان درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی جن میں طلبہ کے "پارلیمنٹ چلو" مارچ کے دوران پولیس کارروائی کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، سی سی ٹی وی فوٹیج، باڈی کیمرا ریکارڈنگ اور دیگر الیکٹرانک شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت دینے کی اپیل کی ہے۔

درخواستوں میں زخمی ہونے والے طلبہ اور دیگر مظاہرین کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن تھا، لیکن پولیس کی کارروائی نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔

20 جولائی کو جب طلبہ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے تو راستے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا۔ اس کے بعد بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں اس واقعے پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔

یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی گونجا، جہاں اپوزیشن ارکان نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کیا اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کی آواز کو دبانے کے بجائے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن کے نتیجے میں اہم مطالبات تسلیم کیے گئے اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد 36 دن سے جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے ریمارکس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جمہوری نظام میں پرامن احتجاج شہریوں کا بنیادی آئینی حق ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو امن و امان برقرار رکھتے ہوئے بنیادی حقوق کا بھی مکمل احترام کرنا ہوگا۔