نئی دہلی:بھاکھڑا نانگل اور بیاس منصوبوں سے متعلق بجلی بقایا تنازع میں سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو سخت سرزنش کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ پنجاب کو عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی عادت ہے اور اگر اس بار بھی حکم پر عمل نہ ہوا تو ریاست کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
یہ تنازع ہماچل پردیش کے بجلی میں 7.19 فیصد حصے سے متعلق ہے، جس کا حق سپریم کورٹ نے 2011 کے فیصلے میں تسلیم کیا تھا۔ تاہم یہ فیصلہ اب تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔
اٹارنی جنرل آر۔ وینکٹ رمانی نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش اور مرکزی وزارتِ بجلی کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد ایک ایسا سمجھوتہ تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے تنازع کو پرامن انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔
تجویز کے مطابق براہِ راست مالی ادائیگی کے بجائے بجلی کی فراہمی کے ذریعے بقایا جات کو ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اس کے تحت پنجاب اور ہریانہ آئندہ 15 لین سیزن میں ہر سال 871 ملین یونٹ بجلی ہماچل پردیش کو فراہم کریں گے، جس کی مجموعی مقدار 13,066 ملین یونٹ ہوگی۔
ہماچل پردیش کی سرمایہ لاگت کی ذمہ داری *420.7 کروڑ روپے* مقرر کی گئی ہے، جس میں پنجاب کا حصہ *249.2 کروڑ روپے* اور ہریانہ کا حصہ *171.5 کروڑ روپے* ہے۔ اس رقم کو بھی بجلی بقایا کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ہماچل پردیش اور ہریانہ نے اس تجویز کی حمایت کی، جبکہ پنجاب نے اسے ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے اعتراض کیا اور کہا کہ اس سے ریاست کو مالی نقصان ہوگا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ تقریباً 60 سال پرانے تنازع اور 2011 کے فیصلے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر سمجھوتہ نہ ہوا تو ہماچل پردیش کو 2011 سے سود سمیت تمام فوائد دیے جائیں گے۔
عدالت نے پنجاب کو اپنے موقف پر دوبارہ غور کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے اور اگلی سماعت *12 اگست* مقرر کی ہے۔





.jpg)
.jpg)




.webp)


