پیر کے روز ناگپور میں E20 پیٹرول کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں، جب یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری کی نجی رہائش گاہ کی طرف مارچ نکالا۔ مظاہرین نے E20 پیٹرول کے خلاف نعرے لگائے اور گڈکری کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
یہ مارچ محل علاقے کے چٹنویس پارک اسکوائر سے شروع ہوا۔ پولیس پہلے ہی الرٹ تھی اور گڈکری کی رہائش گاہ کے اطراف بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ راستوں پر بیریکیڈز لگائے گئے تھے، تاہم مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے گاڑی مالکان اور مکینک E20 پیٹرول کے استعمال سے متعلق مختلف شکایات کر رہے ہیں۔ پارٹی کا الزام ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کی وضاحت سے عوام کے خدشات دور نہیں ہوئے بلکہ مزید سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ گاڑیوں کی مائلیج میں کمی، انجن کی کارکردگی متاثر ہونے، پرانی گاڑیوں میں مطابقت کے مسائل، کولڈ اسٹارٹ کی دشواری، فیول انجیکٹر جام ہونے، فیول لائن میں زنگ لگنے اور ربڑ کے پرزوں کے جلد خراب ہونے جیسی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان خدشات پر تفصیلی تکنیکی وضاحت دینی چاہیے۔
دوسری جانب مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ E20 پیٹرول کئی برسوں کی سائنسی تحقیق اور جانچ کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق ایسے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں جو بڑے پیمانے پر گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایتھانول ملا ہوا ایندھن خام تیل پر انحصار کم کرنے، کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور آلودگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بھی نتن گڈکری کے استعفے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اگر عوام کے خدشات دور نہ کیے گئے تو کانگریس اس معاملے کو مزید شدت سے اٹھائے گی۔ دوسری جانب حکومت E20 کو ملک کی توانائی کے مستقبل اور صاف ایندھن کی سمت ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے۔