نئی دہلی:یوم آزادی سے عین قبل دہلی کے کئی اہم مقامات کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنے کے بعد سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ ہوگئی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، فائر بریگیڈ، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کو متحرک کیا گیا۔
جن مقامات کو دھمکی سے جوڑا جا رہا ہے ان میں *دہلی ہائی کورٹ، جام نگر ہاؤس، جھنڈیوالان فلیٹڈ فیکٹری کمپلیکس، ایم بی ساکیت آفس/ڈی ایم آفس، دہلی ایئرپورٹ کا ٹرمینل 3 اور دہلی کینٹ کا ایس ڈی ایم آفس* شامل ہیں۔
ابتدائی تلاشی کے دوران اب تک کسی مشتبہ چیز کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم سکیورٹی ایجنسیاں مکمل احتیاط کے ساتھ تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ کو دھمکی آمیز ای میل
معلومات کے مطابق دہلی ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کے سرکاری ای میل پر ایک دھمکی آمیز پیغام موصول ہوا۔ ای میل میں عدالت کے احاطے اور ججوں کے کمروں میں بم رکھے ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
اطلاع ملتے ہی سکیورٹی ایجنسیوں کو آگاہ کیا گیا اور پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں عدالت کے احاطے میں پہنچ گئیں۔
عدالت کے احاطے میں تفصیلی تلاشی
سکیورٹی ٹیموں نے ہائی کورٹ کے مختلف حصوں کی جانچ کی۔ کورٹ رومز، حساس مقامات اور دیگر اہم حصوں میں اینٹی سبوتاج چیکنگ کی گئی۔
تربیت یافتہ ڈاگ اسکواڈ نے بھی عدالت کے احاطے کی تلاشی لی۔ ابتدائی جانچ میں کسی مشتبہ چیز کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن سکیورٹی ٹیمیں مکمل اطمینان تک کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دھمکی کے ماخذ کی تحقیقات
اب تفتیش کا اہم مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ دھمکی آمیز ای میل کس نے بھیجی اور اس کے پیچھے کیا مقصد تھا۔
تحقیقاتی ایجنسیاں اس امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ یہ ایک فرضی دھمکی یا خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ تاہم معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تمام ضروری سکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سائبر ٹیم تحقیقات میں مصروف
اسپیشل سیل اور سائبر تحقیقات سے متعلق ٹیمیں ای میل کی تکنیکی تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
تحقیقات کا مقصد ای میل کے ماخذ کا پتہ لگانا اور دھمکی بھیجنے والے شخص یا گروہ کی شناخت کرنا ہے۔ ہائی کورٹ کے اطراف سکیورٹی سخت
دھمکی کے بعد دہلی ہائی کورٹ اور اس کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ داخلے اور اخراج کے مقامات پر نگرانی بڑھائی گئی ہے جبکہ حساس علاقوں میں اضافی چیکنگ کی جا رہی ہے۔
یوم آزادی کے پیش نظر دہلی میں ہائی الرٹ
15 اگست کے پیش نظر دہلی میں پہلے ہی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ڈی سی پی نارتھ راجا بانٹھیا کے مطابق یوم آزادی کی تقریبات کے لیے ایک جامع سکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے، جس میں دہشت گردی کے خلاف جانچ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری، بھیڑ کو کنٹرول کرنا اور اہم شخصیات کی سکیورٹی شامل ہے۔
ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے
سکیورٹی منصوبے کے تحت تقریباً *15 ہزار سے 20 ہزار اہلکار* مختلف ایجنسیوں کی جانب سے تعینات کیے جانے کی تیاری ہے۔
اس کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمروں، ویڈیو تجزیے اور دیگر ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کے ذریعے بھی سکیورٹی کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
تین کلومیٹر کے علاقے میں نگرانی
یوم آزادی کی تقریبات کے پیش نظر تقریباً تین کلومیٹر کے علاقے میں خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے۔ پارکنگ پاس جاری کیے گئے ہیں اور آمدورفت کو منظم رکھنے کے لیے مختلف راستوں سے متعلق ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد کے لیے بھی مناسب انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
فی الحال کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی
دھمکی کے بعد کئی مقامات پر تلاشی مہم چلائی گئی، تاہم ابتدائی جانچ میں کسی مشتبہ چیز کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اس کے باوجود یوم آزادی سے قبل دھمکی ملنے کے باعث سکیورٹی ایجنسیاں مکمل طور پر الرٹ ہیں۔ تحقیقات کا بنیادی مرکز دھمکی کی حقیقت معلوم کرنا، ای میل کے ماخذ کا سراغ لگانا اور کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے کو روکنا ہے۔





.jpg)
.jpg)




.webp)


