تازہ خبریں طرز زندگی
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، جج بننے کے لیے 3 نہیں 1 سال وکالت ضروری


قانون کی تعلیم مکمل کرکے نچلی عدالتوں میں جج بننے کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کے لیے سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے ابتدائی سطح کی عدالتی سروس، یعنی سول جج جونیئر ڈویژن کے امتحان میں شرکت کے لیے لازمی وکالت کے تجربے کی مدت 3 سال سے گھٹا کر 1 سال کردی ہے۔

اب امیدواروں کو عدالتی سروس کے امتحان میں شرکت سے پہلے 3 سال کی پریکٹس مکمل کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ نئی شرائط کے تحت 1 سال کا قانونی پریکٹس کا تجربہ کافی ہوگا۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے اس سابقہ حکم میں تبدیلی کے طور پر آیا ہے جس کے تحت نچلی عدلیہ میں براہ راست بھرتی کے لیے 3 سال کی قانونی پریکٹس لازمی کی گئی تھی۔ اس اصول کا مقصد یہ تھا کہ عدالتی سروس میں داخل ہونے والے امیدواروں کو عدالت کے عملی کام کا تجربہ حاصل ہو۔ بعد میں اس شرط کے خلاف نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئیں اور اب عدالت نے اپنے سابقہ فیصلے میں ترمیم کردی ہے۔

میدواروں کے لیے کیا بدلے گا؟

نئے نظام کے تحت عدالتی سروس کے امتحان میں شرکت کے لیے امیدوار کے پاس کم از کم 1 سال کا وکالت کا تجربہ ہونا ضروری ہوگا۔ اس فیصلے سے خاص طور پر ان قانون کے فارغ التحصیل نوجوانوں کو فائدہ ہوگا جو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد عدالتی سروس میں جانے کی تیاری کرنا چاہتے ہیں۔

اس سے قانون کی تعلیم اور عدالتی سروس کے امتحان کے درمیان انتظار کا عرصہ کم ہوسکتا ہے۔ پہلے امیدواروں کو 3 سال کی پریکٹس مکمل ہونے تک انتظار کرنا پڑتا تھا، لیکن اب ایک سال کی پریکٹس کے بعد وہ امتحان کے لیے اہل ہوسکیں گے۔

تاہم سپریم کورٹ نے عملی تجربے کی اہمیت کو ختم نہیں کیا ہے۔ عدالت نے منتخب امیدواروں کے لیے اضافی تربیت اور کلرک شپ کا انتظام بھی کیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق منتخب امیدواروں کو 1 سال کی عدالتی تربیت اور اس کے بعد 1 سال کی باقاعدہ لا کلرک شپ سے گزرنا ہوگا۔

 سپریم کورٹ نے شرط کیوں بدلی؟

3 سال کی پریکٹس کی شرط پر یہ تشویش ظاہر کی گئی تھی کہ اس سے نوجوان قانون کے فارغ التحصیل افراد کے لیے عدالتی سروس میں داخلے کا راستہ مشکل ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جج کے لیے صرف کتابی علم کافی نہیں، بلکہ عدالت کے عملی طریقہ کار اور قانونی عمل کی سمجھ بھی ضروری ہے۔

نئے نظام میں ان دونوں پہلوؤں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امیدوار کے لیے امتحان سے پہلے 1 سال کی حقیقی قانونی پریکٹس ضروری ہوگی، جبکہ انتخاب کے بعد تربیت اور کلرک شپ کے ذریعے مزید عملی تجربہ فراہم کیا جائے گا۔

 پہلے کیا اصول تھا؟

سپریم کورٹ کے 2025 کے فیصلے کے بعد سول جج جونیئر ڈویژن کی براہ راست بھرتی کے لیے 3 سال کی قانونی پریکٹس لازمی ہوگئی تھی۔ اس فیصلے کا مقصد عدالتی سروس میں شامل ہونے والے امیدواروں کے عملی قانونی تجربے کو مضبوط بنانا تھا۔

اس شرط کے خلاف کئی نظرثانی درخواستیں دائر کی گئیں۔ جولائی 2026 میں سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اب عدالت نے اپنے سابقہ حکم میں ترمیم کرتے ہوئے پریکٹس کی کم از کم مدت 1 سال کردی ہے۔

 تربیت اور کلرک شپ کیوں اہم ہوگی؟

نئے نظام میں انتخاب کے بعد ہونے والی تربیت بہت اہم ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق امیدواروں کو 1 سال کی عدالتی اکیڈمی ٹریننگ کے بعد 1 سال کی منظم لا کلرک شپ سے گزرنا ہوگا۔

اس تربیت کے دوران مستقبل کے ججوں کو عدالتی سماعت، مقدمات کے ریکارڈ، عدالتی کارروائی، قانونی استدلال اور احکامات لکھنے جیسے عملی امور کا تجربہ حاصل ہوگا۔

اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پریکٹس کی شرط کم ہونے کے باوجود عدالتی سروس میں داخل ہونے والے امیدوار عملی تجربے سے محروم نہ رہیں۔

نوجوانوں پر کیا اثر پڑے گا؟

اس فیصلے کا سب سے بڑا اثر عدالتی سروس کی تیاری کرنے والے نوجوان قانون گریجویٹس پر پڑے گا۔ 3 سال کی شرط کی وجہ سے بہت سے امیدواروں کو عدالتی امتحان میں شرکت سے پہلے طویل عرصہ انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اب 1 سال کی پریکٹس کے بعد وہ امتحان کے لیے اہل ہوسکیں گے۔

اس سے عدالتی سروس میں کیریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے لیے راستہ نسبتاً جلد کھل سکتا ہے۔ تاہم آخری اہلیت متعلقہ ریاست یا ہائی کورٹ کی عدالتی سروس کی بھرتی کے نوٹیفکیشن اور نافذ قواعد کے مطابق ہوگی۔

فیصلہ کیوں اہم ہے؟

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نچلی عدلیہ میں ججوں کی بھرتی کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ اب عملی تجربے کے لیے صرف طویل عرصے کی پہلے سے کی جانے والی وکالت پر انحصار نہیں ہوگا، بلکہ 1 سال کی پریکٹس کے ساتھ انتخاب کے بعد باقاعدہ تربیت اور کلرک شپ بھی شامل ہوگی۔

اس طرح عدالت نے نوجوان قانون گریجویٹس کے لیے عدالتی سروس میں داخلہ نسبتاً آسان بنانے اور عملی عدالتی تجربے کو برقرار رکھنے کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔