تازہ خبریں طرز زندگی
میٹھے مشروبات اور چپس پر وارننگ لیبل کی تجویز، فوڈ کمپنیوں نے مخالفت کردی

 


نئی دہلی: بھارت میں پیکٹ بند کھانے اور مشروبات پر غذائی وارننگ لیبل لگانے کے معاملے پر حکومت، فوڈ ریگولیٹر، صحت کے ماہرین اور بڑی فوڈ کمپنیوں کے درمیان بحث تیز ہوگئی ہے۔ تجویز کے تحت ایسے کھانے اور مشروبات کے پیکٹ کے سامنے واضح نشان یا وارننگ لگانے پر غور کیا گیا ہے جن میں چینی، نمک یا چکنائی کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہو۔

اس نظام کا مقصد صارفین کو خریداری کے وقت ہی یہ بتانا ہے کہ کسی مصنوعات میں غذائیت کے اعتبار سے کون سے اجزا زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پیکٹ کے پچھلے حصے پر موجود تفصیلی غذائی معلومات ہر صارف کے لیے آسانی سے سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے میں سامنے کی جانب واضح وارننگ زیادہ کارآمد ہوسکتی ہے۔

تاہم، فوڈ اور بیوریج صنعت سے وابستہ کمپنیوں نے اس تجویز پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ صرف کسی نشان یا وارننگ کو دیکھ کر صارفین کی کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی یقینی نہیں بنائی جاسکتی۔

 وارننگ لیبل پر بحث کیوں؟

پیکٹ بند کھانے میں زیادہ چینی، نمک اور چکنائی کی مقدار کو لے کر صحت سے متعلق خدشات کئی برسوں سے ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔ بھارت میں بدلتی طرز زندگی اور پیکٹ بند کھانے کی بڑھتی ہوئی کھپت نے اس مسئلے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

تجویز کردہ نظام کا مقصد یہ ہے کہ صارف کو مصنوعات خریدتے وقت ہی واضح طور پر معلوم ہوسکے کہ اس میں چینی، نمک یا چکنائی کی مقدار زیادہ ہے یا نہیں۔

اس کا مقصد کسی خاص مصنوعات کی فروخت روکنا نہیں بلکہ صارفین کو بہتر معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی پسند کا فیصلہ زیادہ سمجھداری سے کرسکیں۔

 فوڈ کمپنیوں کا کیا کہنا ہے؟

فوڈ صنعت سے وابستہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ صحت مند غذا کے بارے میں عوامی آگاہی صرف پیکجنگ لیبل کے ذریعے پیدا نہیں کی جاسکتی۔

کمپنیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مصنوعات کے پیکٹ پر غذائی معلومات پہلے ہی موجود ہوتی ہیں اور صارفین ان معلومات کو دیکھ کر فیصلہ کرسکتے ہیں۔

صنعت کے ایک حصے کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر زیادہ چینی، نمک یا چکنائی رکھنے والی تمام مصنوعات پر واضح وارننگ لگا دی گئی تو مارکیٹ میں بڑی تعداد میں پیکٹ وارننگ کے ساتھ نظر آئیں گے، جس سے ان علامات کی افادیت متاثر ہوسکتی ہے۔

 مختلف ممالک میں مختلف اصول

اس بحث کا ایک اہم پہلو مختلف ممالک میں پیکٹ بند مصنوعات کے لیے الگ الگ اصول بھی ہیں۔

کئی ممالک میں پیکٹ کے سامنے رنگوں یا واضح علامات کے ذریعے چینی، نمک اور چکنائی کی مقدار کے بارے میں معلومات دی جاتی ہیں۔

اسی وجہ سے بھارت میں صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ بھارتی صارفین کو بھی مصنوعات کی غذائی خصوصیات کے بارے میں اتنی ہی واضح معلومات کیوں نہ دی جائیں۔

 مصنوعات کی ترکیب میں فرق کا معاملہ

بین الاقوامی فوڈ کمپنیاں مختلف ممالک میں مقامی قوانین، ذائقے، قیمت اور صارفین کی پسند کے مطابق اپنی مصنوعات کی ترکیب میں تبدیلی کرتی ہیں۔

تاہم، بھارت اور دیگر ممالک میں ایک ہی برانڈ کی مصنوعات میں اجزا کے فرق نے بھی صارفین کے درمیان بحث کو جنم دیا ہے۔

کچھ چاکلیٹ اور فوری تیار ہونے والے نوڈلز میں مختلف ممالک کے لیے کوکو، تیل، نمک اور دیگر اجزا کی مقدار مختلف ہوسکتی ہے۔

صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ مصنوعات میں موجود اجزا کے بارے میں زیادہ شفاف معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔

 سپریم کورٹ کی مداخلت

غذائی وارننگ لیبل کا معاملہ عدالتی سطح تک بھی پہنچ چکا ہے۔ سپریم کورٹ نے فوڈ ریگولیٹر کو پیکٹ بند مصنوعات پر وارننگ لیبل کے معاملے پر غور کرنے کی ہدایت دی تھی۔

عدالت کی تشویش بنیادی طور پر اس بات سے متعلق ہے کہ صارفین کو زیادہ چینی، نمک یا چکنائی والی مصنوعات کے بارے میں واضح معلومات ملنی چاہئیں۔

اس کے بعد ریگولیٹری سطح پر اس معاملے پر بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔

 بھارت میں صحت سے متعلق بیداری بڑھ رہی ہے

بھارت میں صارفین کے درمیان صحت اور غذائیت کے حوالے سے بیداری میں اضافہ ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا، صحت کے ماہرین اور صارفین کی تنظیموں کی مہمات کی وجہ سے لوگ اب مصنوعات کے اجزا، کیلوریز، چینی اور دیگر غذائی معلومات پر پہلے سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

خاص طور پر نوجوان صارفین کم چینی، کم نمک اور بہتر غذائیت والی مصنوعات کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

اسی بدلتے رجحان کے درمیان پیکٹ کے سامنے واضح وارننگ لیبل لگانے کی مانگ بھی زور پکڑ رہی ہے۔

 کیا وارننگ لیبل سے صارفین کی پسند بدلے گی؟

اس سوال پر ابھی بھی بحث جاری ہے۔ صحت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ واضح وارننگ صارفین کو کم صحت بخش مصنوعات کی شناخت کرنے اور مختلف مصنوعات کے درمیان بہتر موازنہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

دوسری جانب فوڈ صنعت کا کہنا ہے کہ صرف وارننگ لیبل لوگوں کی کھانے پینے کی عادات میں بنیادی تبدیلی نہیں لاسکتے۔

بھارت میں پیکٹ بند کھانے اور مشروبات کی مارکیٹ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ صارفین کو مکمل معلومات فراہم کرنے، صنعت کے مفادات اور عوامی صحت کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جائے۔