تازہ خبریں طرز زندگی
سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے کی مسجد پر چلا بلڈوزر، ضلع جج کے فیصلے کے بعد کارروائی؛ اقرا حسن ہاؤس اریسٹ


سہارنپور: اتر پردیش کے سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے میں قائم مسجد کو ضلع جج عدالت کے فیصلے کے بعد ہفتہ کی صبح بلڈوزر کی مدد سے منہدم کر دیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کے دوران موقع پر کئی بلڈوزر پہنچائے گئے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے پیش نظر شہر کے حساس علاقوں میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی۔

مسجد سے متعلق تنازعہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ مارچ 2025 میں بجرنگ دل کے سابق صوبائی کنوینر وکاس تیاگی نے شکایت درج کراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کلکٹریٹ احاطے میں قائم مسجد غیر قانونی ہے۔ شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ احاطے کا تجارتی استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے کلکٹریٹ کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

یہ معاملہ تقریباً ڈیڑھ سال سے سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ جولائی میں عدالت نے مسجد کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد معاملہ ضلع جج عدالت تک پہنچا۔ تین دن قبل ضلع جج عدالت نے سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامیہ کی کارروائی کی راہ ہموار کر دی۔

 چھ بلڈوزروں کی مدد سے کارروائی

عدالت کے فیصلے کے بعد ہفتہ کی صبح انتظامیہ نے مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی شروع کی۔ بتایا گیا کہ موقع پر چھ بلڈوزر تعینات کیے گئے تھے۔ کارروائی کے دوران پولیس اور انتظامی افسران بھی موقع پر موجود رہے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

جمعہ کی رات سے ہی مسجد کو منہدم کیے جانے کی خبریں اور افواہیں شہر میں گردش کرنے لگی تھیں۔ اس کے بعد بعض عوامی نمائندوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے معاملے پر اپنے ردعمل کا اظہار بھی کیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے شہر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی۔

 اقرا حسن کو گھر میں نظر بند کیا گیا

کارروائی کے دوران کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو پولیس نے ان کے گھر میں نظر بند کر دیا۔ سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود سمیت دیگر مقامی عوامی نمائندوں کی جانب سے بھی معاملے پر بیانات سامنے آئے۔

کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے قانون و نظم برقرار رکھنے اور کسی بھی تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ضلع جج عدالت کے فیصلے کے بعد کلکٹریٹ احاطے میں قائم مسجد کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہر کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور حساس علاقوں میں پولیس کی موجودگی بڑھائی گئی ہے۔