تازہ خبریں طرز زندگی
کینیڈا میں پنجابی گلوکار ایمی ورک کے قافلے پر فائرنگ، حملہ آوروں نے 7 گولیاں چلائیں؛ بلٹ پروف گاڑی نے بچائی جان


یبٹسفورڈ: پنجابی موسیقی اور فلمی دنیا کے معروف گلوکار و اداکار ایمی ورک کے قافلے پر کینیڈا کے ایبٹسفورڈ میں فائرنگ کی گئی۔ یہ واقعہ 5 ستمبر کی رات اس وقت پیش آیا جب ایمی ورک ایک پروگرام ختم ہونے کے بعد اپنے قافلے کے ساتھ واپس جا رہے تھے۔ میک کولم روڈ پر حملہ آوروں نے قافلے میں شامل ایک لگژری گاڑی کو نشانہ بنایا اور اس پر کئی گولیاں چلائیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے تقریباً سات راؤنڈ فائر کیے۔ جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا وہ بلٹ پروف تھی، جس کی وجہ سے گولیاں گاڑی کے اندر موجود افراد تک نہیں پہنچ سکیں۔ ایمی ورک اور گاڑی میں سوار دیگر افراد محفوظ رہے۔

واقعے کے بعد ایبٹسفورڈ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر پولیس اس واقعے کو ممکنہ طور پر ایک ٹارگٹڈ حملہ سمجھ کر تفتیش کر رہی ہے، تاہم ابھی تک کسی مخصوص شخص یا گروہ کے ملوث ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

پروگرام سے واپسی کے دوران حملہ

اطلاعات کے مطابق ایمی ورک کا پروگرام ایبٹسفورڈ کے راجرز فورم ہال میں منعقد ہوا تھا۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد وہ اپنے قافلے کے ساتھ وہاں سے روانہ ہوئے۔

رات تقریباً 11 بجے میک کولم روڈ پر ایک گہرے رنگ کی ایس یو وی میں سوار حملہ آوروں نے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ پولیس کی ابتدائی معلومات کے مطابق گاڑی پر متعدد گولیاں چلائی گئیں اور حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حملہ آوروں کا اصل ہدف ایمی ورک تھے یا قافلے میں شامل گاڑی کو کسی اور وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ پولیس مختلف امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

 بلٹ پروف گاڑی نے بچائی جان

اس واقعے میں سب سے اہم بات یہ رہی کہ ایمی ورک اور دیگر افراد جس گاڑی میں موجود تھے وہ بلٹ پروف تھی۔ متعدد گولیاں چلنے کے باوجود گاڑی میں موجود افراد محفوظ رہے۔

اب تک ایمی ورک یا ان کے ساتھ موجود کسی دوسرے شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم فائرنگ کے کئی راؤنڈ ہونے کے باعث پولیس نے واقعے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

تفتیش کار حملہ آوروں کی شناخت، ان کی گاڑی، فائرنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار اور حملے کے اصل مقصد کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج سے مل سکتی ہے اہم معلومات

واقعے کی تحقیقات میں علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ پولیس حملہ آوروں کی گاڑی کی شناخت اور فائرنگ کے بعد ان کے فرار ہونے کے راستے کا پتہ لگانے کے لیے نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لے سکتی ہے۔

اس کے علاوہ پولیس عینی شاہدین سے بھی معلومات حاصل کر رہی ہے۔ تفتیش کے لیے یہ جاننا اہم ہوگا کہ حملہ آور قافلے کا پیچھا کر رہے تھے یا پہلے سے سڑک پر موجود تھے۔

ابھی تک پولیس نے کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری یا کسی مخصوص مجرمانہ گروہ کے ملوث ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

 کینیڈا میں پنجابی فنکار پہلے بھی بنے نشانہ

کینیڈا میں پنجابی موسیقی اور تفریحی دنیا سے وابستہ فنکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ان واقعات کے باعث کینیڈا میں رہنے اور وہاں پروگرام کرنے والے پنجابی فنکاروں کی سکیورٹی پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

ستمبر 2024 میں پنجابی گلوکار اے پی ڈھلن کی کینیڈا میں واقع رہائش گاہ کے قریب فائرنگ کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ ان کے گھر کے باہر کھڑی گاڑیوں کو آگ لگانے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا۔ اس معاملے میں ایک مجرمانہ گروہ سے وابستہ افراد کی جانب سے ذمہ داری لینے کے دعوے سامنے آئے تھے۔

نومبر 2023 میں پنجابی گلوکار اور اداکار گپی گریوال کی کینیڈا کے وائٹ راک علاقے میں واقع رہائش گاہ کے باہر بھی فائرنگ کی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد بھی ایک مجرمانہ گروہ سے متعلق دعوے سامنے آئے تھے۔

 کرن اوجلا کو بھی مل چکی ہیں دھمکیاں

پنجابی گلوکار کرن اوجلا بھی کینیڈا میں قیام کے دوران سکیورٹی خدشات کا ذکر کر چکے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں متعدد مرتبہ فائرنگ اور بھتہ خوری سے متعلق دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

2019 میں کینیڈا میں واقع ان کے گھر پر بھی فائرنگ کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ سکیورٹی خدشات کے باعث بعد میں انہوں نے دبئی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

اکتوبر 2025 میں پنجابی گلوکار تیجی کہلون کو بھی کینیڈا میں مبینہ طور پر نشانہ بنا کر فائرنگ کیے جانے کی خبر سامنے آئی تھی۔ مسلسل سامنے آنے والے ایسے واقعات نے پنجابی فنکاروں کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

پولیس تحقیقات سے سامنے آئے گا حملے کا مقصد

ایمی ورک کے قافلے پر فائرنگ کے واقعے نے ایک بار پھر کینیڈا میں پنجابی فنکاروں کی سکیورٹی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ تاہم اس واقعے میں سب سے بڑی راحت یہ ہے کہ بلٹ پروف گاڑی کی وجہ سے کسی شخص کی جان نہیں گئی اور نہ ہی کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

اب پولیس کی تحقیقات کا مرکز حملہ آوروں کی شناخت، ان کی گاڑی کا سراغ، فائرنگ کی وجہ اور ممکنہ سازش کا پتہ لگانا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی مدد سے ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ایمی ورک کے قافلے کو کیوں نشانہ بنایا گیا اور اس حملے کے پیچھے کون لوگ تھے۔