تازہ خبریں طرز زندگی
جوتے میں چھپایا گیا بم کا ریموٹ، کمرے میں دھماکہ خیز مواد اور پیشاب جمع کرنے تک کی کہانی؛ لال قلعہ دھماکہ کیس کی چارج شیٹ میں بڑے انکشافات


*نئی دہلی:* دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہوئے گاڑی بم دھماکے کی تحقیقات میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی کی چارج شیٹ کے مطابق مبینہ سازش کے مرکزی کردار عمر ان نبی نے ابتدا میں چاندنی چوک کے لال مندر کے علاقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

تاہم، وہاں موجود شدید ٹریفک، لوگوں کی بھیڑ اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باعث مبینہ طور پر وہ اپنے منصوبے کو انجام نہیں دے سکا۔ اس کے بعد اس نے گاڑی کا رخ لال قلعہ کی جانب موڑ دیا، جہاں کچھ ہی دیر بعد دھماکہ ہوگیا۔

چارج شیٹ میں درج تفصیلات کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں عمر ان نبی کو 10 نومبر کی شام تقریباً 6 بج کر 37 منٹ پر لال مندر کے قریب گاڑی پارک کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ حالات سازگار نہ ہونے پر اس نے مبینہ طور پر یو ٹرن لیا۔ تقریباً 13 منٹ بعد شام 6 بج کر 50 منٹ کے قریب لال قلعہ کے گیٹ نمبر چار کے پاس گاڑی میں دھماکہ ہوگیا۔

تحقیقاتی ایجنسی نے اس واقعے کو دہلی میں سامنے آنے والا پہلا گاڑی پر مبنی آئی ای ڈی حملہ قرار دیا ہے۔

جوتے میں چھپایا گیا تھا دھماکے کا ریموٹ

چارج شیٹ میں دھماکے کے لیے مبینہ طور پر استعمال کیے گئے ریموٹ کمانڈ سسٹم کے حوالے سے بھی اہم تفصیلات دی گئی ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ریموٹ میکانزم کو ملزم کے جوتے میں چھپایا گیا تھا۔ گاڑی کے قریب سے ملنے والے ایک جوتے کی فرانزک جانچ کی گئی۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس کی ایڑی سے جڑے دھاتی حصے میں دھماکہ خیز مواد سے متعلق باقیات پائی گئیں۔

گاڑی سے حاصل کیے گئے حیاتیاتی نمونوں کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیا گیا۔ چارج شیٹ کے مطابق ان نمونوں کا موازنہ عمر ان نبی کے والدین کے ڈی این اے سے کیا گیا، جس کے بعد اس کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔

 دھماکہ خیز مواد کو محفوظ رکھنے کے لیے کمرہ ٹھنڈا رکھتا تھا

تحقیقات میں عمر کی جانب سے دھماکہ خیز مواد کو محفوظ رکھنے کے مبینہ طریقوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

چارج شیٹ کے مطابق عمر اپنے کمرے کا درجہ حرارت بہت کم رکھتا تھا۔ تفتیش کے دوران گواہوں نے کمرے سے بدبو آنے کی بات بھی بتائی۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، تیار شدہ دھماکہ خیز مواد کو محفوظ رکھنے کے لیے پانی بھرنے والے بیگ بھی خریدے گئے تھے۔ گواہوں کے بیانات کے مطابق دھماکہ خیز آمیزے کو مستحکم رکھنے کے لیے اس میں وقتاً فوقتاً پانی شامل کیا جاتا تھا۔

 نوح میں روپوشی کے دوران پیشاب کمرے میں جمع کرتا تھا

چارج شیٹ میں عمر کے نوح میں مبینہ طور پر روپوش رہنے کے دوران کے رویے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق پولیس کی کارروائی کے بعد عمر نے نوح کے ایک گھر میں پناہ لی تھی۔ مکان مالک کے گھر کی ایک خاتون رکن کے بیان کے مطابق، وہ باہر جا کر پیشاب کرنے کے بجائے اسے پلاسٹک کی تھیلیوں میں جمع کرتا تھا۔ اس کی وجہ سے کمرے میں شدید بدبو پھیل گئی تھی۔

تحقیقات کے دوران ایک ایسی دستاویز ملنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے جس میں یوریا نائٹریٹ پر مبنی دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کے طریقے کا ذکر تھا۔ چارج شیٹ کے مطابق اس دستاویز میں یوریا حاصل کرنے کے ممکنہ ذریعہ کے طور پر پیشاب سے یوریا نکالنے کا بھی ذکر تھا۔

دھماکے میں 11 افراد ہلاک، 29 زخمی

چارج شیٹ کے مطابق لال قلعہ کے قریب ہوئے دھماکے میں 11 افراد ہلاک جبکہ 29 افراد زخمی ہوئے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹس میں اموات کی وجہ شدید نوعیت کے دھماکے سے پیدا ہونے والی بلاسٹ ویو کے اثرات بتائے جانے کا ذکر ہے۔ دھماکے سے آس پاس کی عمارتوں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

تحقیقات کے مطابق املاک کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً 17.7 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔

 مبینہ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق مواد برآمد

تحقیقاتی ایجنسی نے چارج شیٹ میں عمر اور اس کے ساتھیوں سے مبینہ طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق مواد برآمد ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔

تفتیش کاروں کے مطابق برآمد شدہ مواد میں ایسی اشاعت بھی شامل تھی جس میں دھماکہ خیز مواد، ہتھیاروں، گاڑیوں، آتش زنی اور آئی ای ڈی کے ریموٹ میکانزم سے متعلق عملی معلومات موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق یہ مواد مبینہ سازش کی تیاری، منصوبہ بندی اور حملے کو انجام دینے کے طریقہ کار کو سمجھنے میں اہم ثابت ہوا۔

 دھماکے سے چند دن پہلے کپڑے خریدے تھے

چارج شیٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 7 نومبر کو عمر نے نوح کی ایک دکان سے نقد ادائیگی کرکے کچھ کپڑے خریدے تھے۔

خریدے گئے سامان میں نئی ٹی شرٹ، ایک مخصوص رنگ کی شرٹ اور سبز کارگو پینٹ شامل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔

تحقیقاتی ایجنسی اب سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد، گواہوں کے بیانات اور برآمد شدہ مواد کو آپس میں جوڑ کر مبینہ سازش کی مکمل کڑی قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔


کیا ہے پورا معاملہ؟

لال قلعہ کے قریب گاڑی میں ہوئے دھماکے نے دہلی کی سکیورٹی کو لے کر کئی سنگین سوالات اٹھائے تھے۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی چارج شیٹ میں مبینہ منصوبہ بندی، ابتدائی ہدف، ہدف تبدیل کرنے، دھماکہ خیز مواد کو محفوظ رکھنے اور گاڑی میں آئی ای ڈی نصب کرنے سمیت کئی پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔