تازہ خبریں طرز زندگی
گوانگ ژو نئی دہلی براہ راست پرواز 21 ستمبر سے شروع


 گوانگ ژو اور نئی دہلی کے درمیان براہ راست رابطہ بحال

بھارت اور چین کے درمیان براہ راست فضائی رابطہ دوبارہ بحال ہونے جارہا ہے۔ گوانگ ژو اور نئی دہلی کے درمیان باقاعدہ مسافر پروازیں تقریباً چھ سال کے وقفے کے بعد 21 ستمبر سے دوبارہ شروع کی جائیں گی۔

براہ راست پروازوں کی بحالی کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ کے برکس سربراہی اجلاس کے لیے بھارت آنے کی توقع کی جارہی ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے کی بحالی کو اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

 21 ستمبر سے شروع ہوگی باقاعدہ سروس

گوانگ ژو سے نئی دہلی کے درمیان باقاعدہ مسافر پروازیں 21 ستمبر سے دوبارہ شروع ہوں گی۔

اس سروس کی بحالی سے دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو براہ راست سفر کا ایک اہم متبادل دستیاب ہوگا۔ مسافروں کو درمیان میں کسی دوسرے ہوائی اڈے پر پرواز تبدیل کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔

اس سے سفر کا وقت اور ٹرانزٹ کے دوران پیش آنے والی مشکلات بھی کم ہونے کی امید ہے۔

 تقریباً چھ سال سے بند تھا براہ راست فضائی رابطہ

گوانگ ژو اور نئی دہلی کے درمیان براہ راست فضائی سروس تقریباً چھ سال سے بند تھی۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو اکثر دوسرے شہروں کے ذریعے کنیکٹنگ پروازوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔

کنیکٹنگ پروازوں کے باعث سفر کا دورانیہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ مسافروں کو اضافی ٹرانزٹ اور پرواز تبدیل کرنے کی دشواریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔

براہ راست پرواز کی واپسی سے اس روٹ پر سفر نسبتاً آسان اور سہل ہونے کی توقع ہے۔

بھارت چین تعلقات کے تناظر میں اہم قدم

بھارت اور چین کے تعلقات گزشتہ کچھ برسوں کے دوران مختلف اتار چڑھاؤ سے گزرے ہیں۔ ایسے وقت میں براہ راست فضائی رابطے کی بحالی کو دونوں ممالک کے درمیان عوامی رابطے اور آمدورفت بڑھانے کی سمت میں اہم پیش رفت سمجھا جارہا ہے۔

براہ راست پروازوں سے کاروباری افراد، طلبہ، سیاحوں اور دونوں ممالک میں اپنے خاندانوں سے ملنے والے افراد کو سہولت مل سکتی ہے۔

بہتر فضائی رابطہ دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کی باقاعدہ آمدورفت کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

 کاروبار اور سیاحت کو فائدہ ملنے کی امید

گوانگ ژو چین کا ایک اہم اقتصادی اور تجارتی مرکز ہے۔ نئی دہلی سے گوانگ ژو کے لیے براہ راست پرواز شروع ہونے سے کاروباری مسافروں کو خاص طور پر سہولت مل سکتی ہے۔

براہ راست سفر سے متعدد کنیکشن لینے کی ضرورت کم ہوگی اور کاروباری دوروں کی منصوبہ بندی نسبتاً آسان ہوسکتی ہے۔

اسی طرح سیاحت کے شعبے کو بھی فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ براہ راست فضائی رابطے کی وجہ سے بھارت اور چین کے درمیان سفر کرنے والے سیاحوں کے لیے سفر کا عمل زیادہ آسان ہوسکتا ہے۔

 شی جن پنگ کے بھارت دورے سے قبل اہم اعلان

گوانگ ژو نئی دہلی پرواز کی بحالی کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ کے برکس سربراہی اجلاس کے لیے بھارت آنے کی توقع کی جارہی ہے۔

اس وجہ سے اس اعلان کو سفارتی اور فضائی رابطے کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔ براہ راست پروازوں کی بحالی سے دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کی آمدورفت آسان ہوسکتی ہے۔

تاہم صرف فضائی سروس کی بحالی کو دونوں ممالک کے مجموعی تعلقات میں بڑی تبدیلی کی حتمی علامت نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ بنیادی طور پر فضائی سفر اور مسافروں کی سہولت سے متعلق ایک اہم پیش رفت ہے۔

 مسافروں کے لیے کیا بدلے گا؟

براہ راست سروس شروع ہونے کے بعد گوانگ ژو اور نئی دہلی کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو درمیانی ہوائی اڈے پر پرواز تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، اگر ان کی پرواز براہ راست سروس کے تحت ہو۔

اس سے سفر کی پیچیدگیاں کم ہوسکتی ہیں اور ٹرانزٹ کے دوران انتظار کا وقت بھی بچایا جاسکتا ہے۔

یہ سہولت ان مسافروں کے لیے خاص طور پر اہم ہوسکتی ہے جو کاروباری یا دیگر ضروری کاموں کے سلسلے میں بھارت اور چین کے درمیان بار بار سفر کرتے ہیں۔

عوامی رابطے کو ملے گا فروغ

تقریباً چھ سال کے وقفے کے بعد براہ راست فضائی سروس کی بحالی بھارت اور چین کے درمیان عوامی رابطے کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہے۔

کاروبار، تعلیم، سیاحت اور خاندانی سفر کے لیے براہ راست نقل و حمل کا قابل اعتماد ذریعہ دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان باقاعدہ رابطے کو آسان بناتا ہے۔

21 ستمبر سے پروازوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد اب توجہ اس بات پر رہے گی کہ یہ سروس کس طرح چلتی ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مزید براہ راست فضائی رابطے بحال ہوتے ہیں یا نہیں۔