تازہ خبریں طرز زندگی
برکس نئی دہلی اعلامیہ پر اتفاق، جنگ کے خلاف اتحاد


ہندوستان کی میزبانی اور صدارت میں منعقد ہونے والا برکس سربراہ اجلاس ایک اہم سفارتی پیش رفت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ برکس کے رکن ممالک نے مشترکہ اعلامیہ کے مسودے پر اتفاق رائے قائم کرلیا ہے۔ اس اعلامیہ کو ‘برکس نئی دہلی اعلامیہ’ کے نام سے جاری کیا جائے گا۔

مشترکہ اعلامیہ کی منظوری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مغربی ایشیا میں کشیدگی اور تنازع عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ برکس کے رکن ممالک کے درمیان مختلف معاملات پر الگ الگ سیاسی اور سفارتی مؤقف موجود ہیں، اس لیے ایک مشترکہ زبان پر اتفاق کو اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔

 مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق

برکس ممالک کے درمیان کئی دور کی بات چیت اور مشاورت کے بعد مشترکہ اعلامیہ کی زبان پر اتفاق رائے قائم ہوا۔ اعلامیہ میں کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر ہر قسم کی جارحیت اور فوجی تصادم کی مذمت کیے جانے کی بات شامل کی جائے گی۔

اعلامیہ میں تنازعات کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو اہم راستہ قرار دیے جانے کی توقع ہے۔ رکن ممالک اس بات پر زور دیں گے کہ جاری تنازعات کو مزید بڑھانے کے بجائے بات چیت، سفارتی کوششوں اور پرامن حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

ہندوستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی

تمام رکن ممالک کو ایک مشترکہ اعلامیہ پر متفق کرنا ہندوستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی سمجھی جارہی ہے۔ اجلاس سے قبل برکس کے شیرپا کئی دنوں سے اعلامیہ کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے مسلسل مذاکرات کررہے تھے۔

مغربی ایشیا کی صورتحال کے حوالے سے رکن ممالک کے درمیان مختلف خیالات پائے جاتے تھے۔ ایسے میں ایسی زبان تیار کرنا جو تمام ممالک کے لیے قابل قبول ہو، ایک بڑا چیلنج تھا۔ ہندوستان نے ان اختلافات کے درمیان توازن برقرار رکھنے اور مشترکہ مؤقف تیار کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کیں۔

 ایران اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات

مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق رائے قائم کرنے میں مغربی ایشیا کا تنازع ایک اہم رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ خاص طور پر ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جنگ اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے اختلافات کا اثر برکس کے اندر ہونے والی بات چیت پر بھی پڑا۔

اس سے قبل نئی دہلی میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران بھی رکن ممالک مغربی ایشیا کے تنازع پر مشترکہ زبان اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے، جس کے باعث مشترکہ بیان جاری نہیں کیا جاسکا تھا۔

 اس مرتبہ اختلافات دور کرنے میں کامیابی

ہندوستان کی صدارت میں ہونے والی تازہ بات چیت کے دوران مختلف ممالک کے درمیان اختلافات کو کم کرنے اور مشترکہ نقطہ نظر تیار کرنے پر توجہ دی گئی۔ طویل مذاکرات کے بعد رکن ممالک اعلامیہ کی زبان پر اتفاق کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ اتفاق رائے ہندوستان کے سفارتی اثر و رسوخ اور برکس کے مختلف ارکان کے مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ہندوستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ عالمی تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

مودی اور شی جن پنگ کی دوطرفہ ملاقات

برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان دوطرفہ ملاقات بھی ہوگی۔ شی جن پنگ ہفتہ کو نئی دہلی پہنچ چکے ہیں اور بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

کئی برس بعد شی جن پنگ کے ہندوستان دورے کے باعث دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ملاقات میں ہندوستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی مفادات سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

پوتن اور ایرانی صدر سے بھی مودی کی ملاقات

برکس اجلاس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں خاص طور پر اہم رہی۔ دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور ایران کے تعلقات کے علاوہ خطے میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

 مغربی ایشیا کے تنازع پر برکس کا مؤقف

نئی دہلی اعلامیہ میں مغربی ایشیا کے تنازع کا حوالہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم کسی مخصوص ملک کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے ہر طرح کی جارحیت اور فوجی کارروائی کی مذمت کے لیے متوازن زبان استعمال کی جارہی ہے۔

برکس میں شامل ممالک کے سیاسی اور اسٹریٹجک مفادات مختلف ہیں۔ ایسے میں مشترکہ بیان میں متوازن الفاظ کا استعمال تمام رکن ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے۔

برکس کے لیے بھی اہم پیش رفت

مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق رائے برکس کے اجتماعی کردار کے لیے بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔ تنظیم میں مختلف خطوں اور مختلف سیاسی حالات کے حامل ممالک شامل ہیں۔ ایسے میں حساس عالمی معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا گروپ کی سفارتی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

نئی دہلی میں منعقد ہونے والا یہ سربراہ اجلاس ہندوستان کی صدارت میں برکس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مضبوط کرنے کی کوششوں کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔