تازہ خبریں طرز زندگی
برکس نئی دہلی اعلامیہ منظور، پہلگام حملے کی مذمت


نئی دہلی میں منعقد ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں رکن ممالک نے اہم عالمی اور علاقائی معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے *‘نئی دہلی اعلامیہ 2026’* کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے رکن ممالک کے سامنے اعلامیہ کا مسودہ پیش کیا اور پوچھا کہ کیا کسی ملک کو اس پر کوئی اعتراض ہے۔ کسی بھی رکن ملک کی جانب سے اعتراض سامنے نہیں آیا، جس کے بعد اعلامیہ کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

نئی دہلی اعلامیہ میں دہشت گردی، عالمی تنازعات، تجارت، ٹیرف، قابل تجدید توانائی اور کثیرالجہتی تعاون سمیت کئی اہم معاملات پر برکس ممالک کی مشترکہ ترجیحات کو واضح کیا گیا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف برکس کا سخت مؤقف

نئی دہلی اعلامیہ میں دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ برکس رکن ممالک نے خاص طور پر *سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے* کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔

اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دہشت گردی کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ رکن ممالک نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو جوابدہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

برکس ممالک نے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کی مالی معاونت کے ذرائع کے خلاف مشترکہ کارروائی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

پہلگام دہشت گرد حملے کی مذمت

برکس اعلامیہ میں *22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے* کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ اس حملے کا ذکر دہشت گردی کے خلاف برکس ممالک کے اجتماعی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔

رکن ممالک نے دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورکس، ان کے مالی ذرائع اور دہشت گردوں کو حاصل ہونے والی حمایت کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اعلامیہ میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون بڑھانے کی اہمیت بھی واضح کی گئی ہے۔

CCIT جلد منظور کرنے کی اپیل

برکس ممالک نے اقوام متحدہ میں *جامع کنونشن برائے بین الاقوامی دہشت گردی (CCIT)* کو جلد از جلد منظور کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

رکن ممالک کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور واضح عالمی قانونی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی اداروں کے درمیان بہتر رابطے اور ممالک کے درمیان مضبوط تعاون کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

 جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری

نئی دہلی اعلامیہ میں عالمی تنازعات اور جنگوں کے معاملے پر بھی واضح مؤقف سامنے آیا ہے۔ برکس ممالک نے جنگوں کی روک تھام اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

رکن ممالک نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی تنازعات کا حل *مذاکرات، باہمی مشاورت اور سفارت کاری* کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگ اور فوجی تصادم کے بجائے پرامن مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

 مغربی ایشیا کی صورتحال پر تشویش

برکس ممالک نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اعلامیہ میں خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام فریقوں سے *زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے* کی اپیل کی گئی ہے۔

رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی ایشیا میں صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنا ضروری ہے۔ اس کے لیے مذاکرات، سفارتی کوششوں اور پرامن حل کی جانب پیش رفت کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

تجارت اور یکطرفہ اقدامات پر تشویش

نئی دہلی اعلامیہ میں عالمی تجارت سے متعلق معاملات کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ برکس ممالک نے *یکطرفہ تجارتی اقدامات اور تجارتی رکاوٹوں* پر تشویش کا اظہار کیا۔

رکن ممالک نے ایسے عالمی تجارتی ماحول کی ضرورت پر زور دیا جہاں ممالک کے درمیان تعاون اور مساوی مواقع کو فروغ مل سکے۔ ٹیرف اور دیگر یکطرفہ تجارتی اقدامات سے پیدا ہونے والے مسائل بھی عالمی تجارت کے لیے ایک اہم چیلنج کے طور پر سامنے آئے۔

برکس ممالک نے کثیرالجہتی اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور عالمی تجارتی نظام میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

 قابل تجدید توانائی پر تعاون

اعلامیہ میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ رکن ممالک نے صاف اور پائیدار توانائی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔

قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مشترکہ کوششیں رکن ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور تجربات کے تبادلے کے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہیں۔

 مضبوط کثیرالجہتی نظام کی حمایت

نئی دہلی اعلامیہ میں *مضبوط کثیرالجہتی نظام* کو بھی اہم ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ برکس ممالک نے عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

رکن ممالک کا مؤقف ہے کہ عالمی سطح کے بڑے چیلنجز کا حل مشترکہ کوششوں اور باہمی تعاون کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی اداروں کے کردار کو مزید مؤثر بنانے اور ممالک کے درمیان مذاکرات کو مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

 وزیر اعظم مودی کا فیصلوں پر عمل درآمد پر زور

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ نئی دہلی اعلامیہ نے برکس ممالک کے مشترکہ عزم کو آگے بڑھانے کے لیے ایک واضح سمت متعین کردی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب اصل ذمہ داری ان فیصلوں پر عمل درآمد کی ہے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ صرف اعلامیے جاری کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ ان میں کیے گئے وعدوں کو عملی اقدامات اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان برکس کے اندر ہونے والے اتفاق رائے کو عملی تعاون اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے پر زور دے رہا ہے۔

 برکس کا مشترکہ عالمی پیغام

نئی دہلی اعلامیہ 2026 میں برکس ممالک نے دہشت گردی، جنگ، تجارت، توانائی اور کثیرالجہتی نظام جیسے اہم عالمی مسائل پر مشترکہ نقطہ نظر پیش کیا ہے۔

ہندوستان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اعلامیہ کی متفقہ منظوری اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ برکس میں مختلف سیاسی، اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات رکھنے والے ممالک شامل ہیں۔ حساس عالمی معاملات پر اتفاق رائے تنظیم کے اندر مذاکرات اور سفارتی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ اعلامیہ میں طے کیے گئے عزم اور ترجیحات کو رکن ممالک کس حد تک عملی اقدامات میں تبدیل کرتے ہیں اور دہشت گردی، عالمی تنازعات، تجارت اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں۔