تازہ خبریں طرز زندگی
جوہر یونیورسٹی کے 38 عمارتیں گرانے کا حکم

 


رام پور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے انہیں گرانے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ضروری منظوری حاصل نہیں کی گئی، جبکہ یونیورسٹی اور سماجوادی پارٹی اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مکمل خبر

اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر تنازع کا مرکز بن گئی ہے۔ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ صرف میڈیکل کالج کی عمارت اور ایک اکیڈمک بلاک کو اس کارروائی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق تقریباً 82 ہزار 309 مربع میٹر پر تعمیر شدہ عمارتیں متعلقہ اتھارٹی کی منظوری کے بغیر بنائی گئی تھیں۔ یہ حکم اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27 کے تحت جاری کیا گیا۔

یونیورسٹی کا مؤقف ہے کہ جب یہ عمارتیں تعمیر ہوئیں، اس وقت یہ علاقہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں تھا، اس لیے آر ڈی اے سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم اتھارٹی نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی متعلقہ قوانین کے مطابق مجاز ادارے سے منظوری لینا لازمی تھا۔

انتظامیہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی نے دو عمارتوں کے لیے پہلے منظوری حاصل کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانونی تقاضوں کی مکمل معلومات موجود تھیں۔

سماجوادی پارٹی نے اس کارروائی کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرسٹ عدالت سے رجوع کرے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے طلبہ کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کاؤنسلنگ کیمپ لگانے کی ہدایت بھی دی ہے۔

اگر 15 دن کے اندر عمارتیں نہیں ہٹائی گئیں تو انتظامیہ خود انہدامی کارروائی شروع کر سکتی ہے۔ اب سب کی نظریں عدالت کے آئندہ فیصلے پر ہیں۔