کلیان-ڈومبیولی کے ایک اسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر مبینہ حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شیوسینا کارپوریٹر رمیش مہاترے تنازع کا مرکز بن گئے ہیں۔
رمیش مہاترے نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر پر حملہ نہیں کیا بلکہ صرف ان کے موبائل فون کو ہٹانے کی کوشش کی کیونکہ وہ ان کی شکایت نہیں سن رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور معافی بھی نہیں مانگیں گے۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک حاملہ خاتون کے اہل خانہ کو بتایا گیا کہ اسپتال میں نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (NICU) کا کوئی بستر خالی نہیں ہے اور ضرورت پڑنے پر مریض کو دوسرے اسپتال منتقل کرنا ہوگا۔
وائرل ویڈیو میں خاتون ڈاکٹر اپنا موبائل استعمال کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں، اسی دوران مبینہ طور پر ان کے ہاتھ پر وار کیا جاتا ہے جس سے موبائل نیچے گر جاتا ہے اور اسپتال میں ہنگامہ شروع ہو جاتا ہے۔
شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے پر حملہ ناقابل قبول ہے اور انہیں مکمل تحفظ ملنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور اگر کوئی قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی اور پارٹی سطح پر سخت کارروائی کی جائے گی۔




.webp)

.jpg)
.jpg)



