بھارت نے خلائی شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنے پہلے نجی طور پر تیار کردہ آربیٹل لانچ وہیکل *وکرم-1* کو سری ہری کوٹا کے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا۔ اس کامیاب مشن کے ساتھ بھارت کے نجی خلائی شعبے نے ترقی کے ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا ہے۔
کامیاب لانچ کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی نے اسکائی روٹ ایرو اسپیس کی ٹیم سے فون پر بات کی اور انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک راکٹ کی کامیاب پرواز نہیں بلکہ بھارت کے نوجوانوں کی صلاحیت، جدت اور خود اعتمادی کی علامت ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو *"مشن آگمن"* قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف آغاز ہے اور بھارت کو خلائی میدان میں مزید آگے جانا ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ جب حکومت نے خلائی شعبے کو نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا تو کئی خدشات ظاہر کیے گئے تھے، لیکن حکومت نے نوجوان انجینئروں اور اسٹارٹ اپس پر اعتماد کیا۔ وکرم-1 کی کامیابی نے ثابت کر دیا کہ بھارتی نوجوان عالمی معیار کی جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے اسکائی روٹ کی نوجوان ٹیم کی بھی تعریف کی اور کہا کہ لانچ کے دوران ان کے چہروں پر پہلے تشویش اور بعد میں کامیابی کی خوشی صاف نظر آ رہی تھی۔ یہی جذبہ بھارت کے روشن مستقبل کی اصل طاقت ہے۔
اس موقع پر وزیرِاعظم نے "وندے ماترم" لکھا ہوا ایک خصوصی پوسٹ کارڈ بھی ٹیم کو بھیجا، جو مشن کے ساتھ مدارِ زمین تک پہنچ گیا۔ اسکائی روٹ کے سی ای او پون کمار چندانا نے وزیرِاعظم کو بتایا کہ اب "وندے ماترم" خلا تک بھی پہنچ چکا ہے۔
23 میٹر بلند وکرم-1 نے دوپہر 12:05 بجے کامیابی کے ساتھ پرواز بھری اور تقریباً 450 کلومیٹر بلند لو ارتھ آربٹ میں اپنا پے لوڈ کامیابی سے پہنچایا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد بھارت کے پہلے نجی آربیٹل لانچ وہیکل کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرنا تھا، جو مکمل طور پر کامیاب رہا۔
وکرم-1 ایک تین مرحلوں پر مشتمل سالڈ فیول راکٹ ہے، جسے جدید کاربن کمپوزٹ ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں دوبارہ اسٹارٹ ہونے والا آربٹ ایڈجسٹمنٹ ماڈیول بھی موجود ہے، جس کی مدد سے مختلف سیٹلائٹس کو الگ الگ مدار میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔ یہ راکٹ لو ارتھ آربٹ میں 350 کلوگرام اور سن سنکرونس آربٹ میں تقریباً 260 کلوگرام تک وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وکرم-1 کی کامیابی بھارت کے نجی خلائی شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی اور عالمی کمرشل اسپیس مارکیٹ میں ملک کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔