دارالحکومت دہلی میں آج تین مختلف مقامات پر بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے، جس سے شہر میں سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئیں۔
جنتر منتر پر طلبہ اور مختلف تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ طلبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے میں شفاف کارروائی کی جائے اور حکومت اس پر جواب دے۔
دوسری جانب وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا، جس میں راہل گاندھی، پریانکا گاندھی سمیت کئی سینئر رہنما شریک ہوئے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ طلبہ کے معاملے میں حکومت کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
ادھر شمبھو بارڈر پر کسانوں کی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ کسان ٹریکٹروں اور ٹرالیوں کے ساتھ دہلی کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایک ہی دن طلبہ، اپوزیشن اور کسانوں کے احتجاج نے دہلی کی سیاسی فضا کو مزید گرم کر دیا ہے۔ اب سب کی نظریں حکومت اور انتظامیہ کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔
دہلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جنتر منتر میں جاری سی جے پی احتجاج سے متعلق جھوٹی خبریں، اے آئی سے تیار کردہ مواد، ڈیپ فیک ویڈیوز اور ایڈیٹ شدہ تصاویر بعض پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہیں۔ پولیس نے عوام سے ہر معلومات کی تصدیق کرنے کی اپیل کی ہے۔
بھارت کے پہلے نجی آربیٹل راکٹ *وکرم-1* کی کامیاب لانچنگ کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی نے اسکائی روٹ ایرو اسپیس کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے بھارتی نوجوانوں اور نجی خلائی شعبے کی بڑی کامیابی قرار دیا۔