لوک سبھا میں *اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل 2026* پر جاری بحث کے دوران اس وقت ماحول کشیدہ ہو گیا جب قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی تقریر پر حکمراں جماعت کے اراکین نے سخت اعتراض کیا۔ کچھ دیر تک ایوان میں شور شرابہ اور نعرے بازی ہوتی رہی، جس سے کارروائی بھی متاثر ہوئی۔
راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں ملک بھر میں پیپر لیک کے خلاف ہونے والے طلبہ کے احتجاج کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے پُرامن انداز میں اپنی آواز بلند کی، جس سے انہیں امید اور اعتماد ملا۔ ان کے مطابق یہ احتجاج غصے یا نفرت کی علامت نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل اور بہتر امتحانی نظام کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔
تقریر کے دوران راہل گاندھی نے *"ایڈیٹ" (Idiot) کا لفظ استعمال کیا، جس پر حکمراں جماعت کے اراکین نے فوری اعتراض کیا۔ کئی ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور مطالبہ کیا کہ اس لفظ کو پارلیمانی کارروائی سے حذف کیا جائے کیونکہ یہ ایوان کے وقار کے مطابق نہیں ہے۔
حکمراں جماعت کے ارکان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں گفتگو ہمیشہ باوقار اور پارلیمانی زبان میں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے الفاظ ایوان کی روایات کے خلاف ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن نے راہل گاندھی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری تقریر کو سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔ اپوزیشن کے مطابق ان کی تقریر کا اصل مقصد طلبہ کے مسائل، پیپر لیک کے واقعات اور امتحانی نظام میں اصلاحات پر توجہ دلانا تھا۔
اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل پر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ حکومت نے کہا کہ اس بل کا مقصد امتحانات میں شفافیت بڑھانا اور پیپر لیک جیسے جرائم پر سخت روک لگانا ہے، جبکہ اپوزیشن نے مزید اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
بعد میں اسپیکر کی مداخلت کے بعد ایوان میں نظم و ضبط بحال ہوا اور بل پر بحث دوبارہ شروع کر دی گئی۔ اس معاملے پر آئندہ بھی سیاسی ردعمل سامنے آنے کی توقع ہے۔