کولکاتا: بنگلہ دیش سے جلاوطن معروف مصنفہ تسلیمہ نسرین تقریباً انیس سال بعد کولکاتا پہنچیں۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کولکاتا واپس آنا ان کے لیے گھر واپسی اور اپنے وطن لوٹنے جیسا احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنی مرضی سے کولکاتا نہیں چھوڑا تھا بلکہ حالات نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔
تسلیمہ نسرین نے کہا کہ برسوں تک وہ اس امید کے ساتھ زندہ رہیں کہ ایک دن دوبارہ کولکاتا واپس آئیں گی۔ مختلف حکومتیں آئیں اور گئیں، لیکن ان کی واپسی کا راستہ طویل عرصے تک بند رہا۔ اب تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ اس شہر میں قدم رکھنا ان کے لیے انتہائی جذباتی لمحہ ہے۔
سال 2007 میں ان کی تحریروں کے خلاف احتجاج کے بعد انہیں کولکاتا چھوڑنا پڑا تھا۔ اس سے قبل 2003 میں ان کی کتاب *"دوکھنڈیتو"* پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے، جس کے بعد شدید تنازع کھڑا ہوا اور انہیں شہر سے جانا پڑا۔
تسلیمہ نسرین اس وقت بھارت میں رہائشی اجازت نامے کے تحت مقیم ہیں۔ وہ *یکم اگست* کو کولکاتا میں انتہاپسندی کے خلاف منعقد ہونے والے ایک پروگرام میں شرکت کریں گی، جہاں وہ اپنی نظمیں سنائیں گی، سامعین سے گفتگو کریں گی اور اظہارِ رائے کی آزادی، ادب اور مذہبی انتہاپسندی جیسے موضوعات پر اپنے خیالات پیش کریں گی۔
ان کی واپسی پر مغربی بنگال کی سیاست میں بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے الگ الگ ردعمل دیا ہے۔ کچھ نے ان کا خیر مقدم کیا جبکہ بعض نے ان کے ماضی کے بیانات پر اعتراضات بھی اٹھائے۔ اسی وجہ سے ان کا یہ دورہ ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں بھی موضوعِ بحث بن گیا ہے۔
تسلیمہ نسرین طویل عرصے سے خواتین کے حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف اپنی بے باک تحریروں کے لیے جانی جاتی ہیں۔ تقریباً انیس سال بعد کولکاتا واپسی کو ان کی زندگی کا ایک اہم اور علامتی لمحہ تصور کیا جا رہا ہے۔