تازہ خبریں طرز زندگی
اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ حصہ، چین کو بھارت کا دوٹوک جواب

نئی دہلی:*بھارت نے اروناچل پردیش کے حوالے سے چین کے دعوؤں کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ ۔

وزارت خارجہ نے منگل کے روز کہا کہ اروناچل پردیش کے بارے میں بھارت کا موقف پوری طرح واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ وزارت کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین کی جانب سے بھارتی ریاست کے مختلف مقامات کے نام تبدیل کرنے کی کوششوں کو لے کر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات جاری ہیں۔

بھارت پہلے بھی چین کی جانب سے ایسے اقدامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کسی مقام کا نام تبدیل کرنے سے اس علاقے کی حقیقی حیثیت یا بھارت کی خودمختاری پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

 بھارت نے اپنا موقف پھر واضح کیا

وزارت خارجہ نے کہا کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ نئی دہلی طویل عرصے سے اسی موقف پر قائم ہے اور اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

اروناچل پردیش بھارت کے آئینی اور انتظامی نظام کا حصہ ہے۔ ریاست میں بھارتی قوانین نافذ ہیں اور وہاں جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کام کرتی ہے۔

وزارت خارجہ کا تازہ بیان چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے مختلف علاقوں پر دعووں اور مقامات کے متبادل نام جاری کرنے کے پس منظر میں آیا ہے۔

چین کی جانب سے نام تبدیل کرنے پر جواب

چین وقتاً فوقتاً اروناچل پردیش کے بعض مقامات کے لیے مختلف نام جاری کرتا رہا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے ان اقدامات کو خطے پر اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

بھارت نے ہمیشہ ایسے اقدامات کو مسترد کیا ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ کسی مقام کا نام تبدیل کردینے سے اس کی جغرافیائی، انتظامی یا قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔

وزارت خارجہ کے تازہ بیان نے اسی موقف کو ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور نام تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش سے اس حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

 سرحدی اختلافات کے درمیان اہم بیان

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی مسئلے کو لے کر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی معاملات پر سفارتی اور فوجی سطح پر کئی دور کی بات چیت بھی ہوچکی ہے۔

ایسے ماحول میں اروناچل پردیش کے حوالے سے بھارت کا تازہ بیان اہم سمجھا جا رہا ہے۔ نئی دہلی مسلسل واضح کرتا رہا ہے کہ اروناچل پردیش کی بھارت کا حصہ ہونے کی حیثیت پر کوئی سوال نہیں ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ سرحدی اختلافات کو قائم شدہ سفارتی طریقہ کار اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

اروناچل پردیش کی اہمیت

اروناچل پردیش بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں واقع ایک اہم ریاست ہے۔ اس کی سرحد چین کے تبت خودمختار علاقے سے ملتی ہے۔

ریاست کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک حیثیت کے باعث یہ بھارت کی سرحدی اور سکیورٹی پالیسی میں بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔

بھارت متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ اروناچل پردیش ملک کا اٹوٹ حصہ ہے اور کسی دوسرے ملک کی جانب سے وہاں کے مقامات کے نام تبدیل کرنے سے ریاست کی حیثیت تبدیل نہیں ہوسکتی۔

نام تبدیل کرنے سے زمینی حقیقت نہیں بدلتی

بھارت کا واضح موقف ہے کہ کسی مقام کو نیا نام دینے سے اس علاقے پر کسی ملک کی خودمختاری قائم نہیں ہوجاتی۔

کسی علاقے کی حقیقی حیثیت کا تعین اس کے انتظام، قوانین، حکمرانی اور خودمختاری جیسے عوامل سے ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر بھارت نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے مقامات کے نام تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔

وزارت خارجہ کا تازہ بیان بھی اسی مستقل پالیسی کا حصہ ہے۔ نئی دہلی نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ اروناچل پردیش کے بارے میں بھارت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
 
News Image

سی جے پی احتجاج پر فیک نیوز، دہلی پولیس کا بڑا دعویٰ

  • دہلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جنتر منتر میں جاری سی جے پی احتجاج سے متعلق جھوٹی خبریں، اے آئی سے تیار کردہ مواد، ڈیپ فیک ویڈیوز اور ایڈیٹ شدہ تصاویر بعض پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہیں۔ پولیس نے عوام سے ہر معلومات کی تصدیق کرنے کی اپیل کی ہے۔
BY ·