تازہ خبریں طرز زندگی
مغربی بنگال اور تمل ناڈو انتخابات، ووٹنگ جاری ٹرن آؤٹ 78 فیصد سے زائد

بھارت کی دو اہم سیاسی ریاستوں مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں 2026 کے اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے، جہاں دونوں ریاستوں میں سخت سیاسی مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ووٹنگ کا آغاز صبح 07:00 بجے ہوا، اس سے قبل کچھ پولنگ اسٹیشنز پر مشق کے طور پر ٹرائل کیے گئے تاکہ ووٹنگ نظام کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔ ووٹنگ کا عمل شام 06:00 بجے تک جاری رہے گا، جبکہ حکام مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

مغربی بنگال میں دوپہر 03:00 بجے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 78 فیصد سے تجاوز کر گیا، جو عوامی دلچسپی اور شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم مرشد آباد کے کچھ علاقوں میں جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس کے بعد حساس علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

دونوں ریاستوں میں انتخابی طریقہ کار مختلف ہے۔ تمل ناڈو میں ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے، یعنی تمام حلقے ایک ہی دن اپنے نمائندے منتخب کر رہے ہیں۔ جبکہ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں انتخابات ہو رہے ہیں، جس کا اگلا مرحلہ 29 اپریل کو ہوگا۔ دونوں ریاستوں کے نتائج 4 مئی کو اعلان کیے جائیں گے۔

تمل ناڈو میں بنیادی مقابلہ ڈی ایم کے کی قیادت میں سیکولر پروگریسو الائنس اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت میں این ڈی اے اتحاد کے درمیان ہے۔ ڈی ایم کے اتحاد میں کانگریس، ڈی ایم ڈی کے اور وی سی کے شامل ہیں، جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے بی جے پی اور پی ایم کے کے ساتھ میدان میں ہے۔

اس بار انتخابات میں ایک نیا عنصر بھی شامل ہوا ہے، جہاں اداکار وجے نے اپنی جماعت تملگا ویٹری کژگم کے ذریعے سیاست میں قدم رکھا ہے۔ ان کی شمولیت نے تین طرفہ مقابلے کا امکان پیدا کر دیا ہے، جو ریاست کی روایتی سیاست کو بدل سکتا ہے۔

مغربی بنگال میں بھی مقابلہ انتہائی اہم ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ بی جے پی اپنی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو کامیابی میں بدلنے کے لیے کوشاں ہے۔

ان ریاستوں کے علاوہ گجرات کے عمرتھ اور مہاراشٹر کے بارامتی اور رہوری حلقوں میں ضمنی انتخابات بھی ہو رہے ہیں، جن کے نتائج بھی 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔

جیسے جیسے ووٹنگ جاری ہے، سب کی نظریں ٹرن آؤٹ، سیکیورٹی صورتحال اور نئے سیاسی رجحانات پر مرکوز ہیں، جو ان انتخابات کے نتائج پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔