تازہ خبریں طرز زندگی
پی ایم مودی نے بنگال انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل خواتین کے لیے ’10 گارنٹیز‘ کا اعلان کیا

 وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو مغربی بنگال میں اپنی انتخابی مہم کو تیز کرتے ہوئے خواتین کی فلاح و بہبود پر مبنی “10 گارنٹیز” منصوبہ پیش کیا اور دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

کرشن نگر میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست میں اقتدار میں آتی ہے تو خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ہر بلاک میں خواتین کے لیے خصوصی پولیس اسٹیشن قائم کیے جائیں گے اور پولیس فورس میں خواتین کی بڑے پیمانے پر بھرتی کی جائے گی تاکہ سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

مودی نے براہ راست مالی امداد کی اسکیموں کا بھی اعلان کیا، جن میں خواتین کو سالانہ 36 ہزار روپے، لڑکیوں کو گریجویشن کے بعد 50 ہزار روپے، اور حاملہ خواتین کو 21 ہزار روپے کی امداد شامل ہے۔ اس کے ساتھ بچوں کی غذائیت بہتر بنانے کے لیے اضافی فنڈز بھی فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے سکنیا سمردھی یوجنا اور پردھان منتری مدرا یوجنا جیسی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے خواتین کی مالی خودمختاری اور خود روزگاری کو فروغ دینے پر زور دیا۔ “لکھپتی دیدی” پروگرام کے تحت خواتین کاروباری افراد کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔

صحت اور رہائش کے شعبے میں، آیوشمان بھارت کے تحت 5 لاکھ روپے تک مفت علاج اور پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت خواتین کے نام پر مکانات کی رجسٹریشن کا وعدہ بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ، مودی نے حکومتی اصلاحات کا بھی اعلان کیا، جس میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی اور خواتین کے خلاف جرائم کے زیر التوا مقدمات کو دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، چاہے ان کا عہدہ کچھ بھی ہو۔

انہوں نے ہجرت اور سیکیورٹی کے مسائل پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ قانونی پناہ گزینوں کو سہولیات دی جائیں گی، جبکہ غیر قانونی دراندازوں کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزید برآں، انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو سرکاری ملازمین، اساتذہ اور متعلقہ عملے کے لیے 7ویں پے کمیشن کو نافذ کیا جائے گا۔

دوسرے مرحلے کی ووٹنگ قریب آنے کے ساتھ، ان اعلانات کو خواتین ووٹروں کو متوجہ کرنے اور انتخابی امکانات کو مضبوط بنانے کی ایک بڑی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔