تازہ خبریں طرز زندگی
جاپان کی نظریں تاریخی ورلڈ کپ کامیابی پر

جاپان گزشتہ کئی برسوں سے ایشیا کی سب سے مضبوط اور مستقل کارکردگی دکھانے والی ٹیموں میں شامل رہا ہے۔ ٹیم نے 1998 کے بعد ہر فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے، لیکن اب تک کبھی بھی آخری 16 مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

2022 کے بعد جاپان نے جرمنی، اسپین، برازیل اور انگلینڈ جیسی بڑی ٹیموں کو شکست دے کر عالمی توجہ حاصل کی۔ حال ہی میں ویمبلے اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف 1-0 کی کامیابی نے ثابت کیا کہ جاپان اب دنیا کی بڑی ٹیموں کو سخت مقابلہ دے سکتا ہے۔

ٹیم کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب اسٹار ونگر کاؤرو میتوما انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے۔ ان کی غیر موجودگی میں ٹیکیفوسا کوبو سے بڑی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں۔ کوبو نے اس سیزن میں شاندار کارکردگی دکھائی اور اب وہ جاپان کے اہم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

کوچ ہاجیمے موریاسو نے ایک متوازن اسکواڈ تیار کیا ہے جس میں تجربہ اور نوجوان صلاحیتوں کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ واتارو اینڈو، دائیچی کامادا اور ٹیکیہیرو ٹومیاسو ٹیم کو استحکام فراہم کرتے ہیں جبکہ دائزن مائیدا اور آیاسے اوئیدا اٹیک میں رفتار اور توانائی لاتے ہیں۔

جاپان کو گروپ ایف میں نیدرلینڈز، تیونس اور سویڈن کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ نیدرلینڈز کے خلاف پہلا میچ گروپ مرحلے کا سب سے بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق جاپان اس بار آخری 16 کی رکاوٹ عبور کرکے کوارٹر فائنل تک پہنچ سکتا ہے، اگرچہ ٹائٹل جیتنے کی دوڑ اب بھی آسان نہیں ہوگی۔

News Image

شان اسٹرک لینڈ نے خامزات چیمائیف کو شکست دے کر یو ایف سی ٹائٹل جیت لیا

  • شان اسٹرک لینڈ نے یو ایف سی 328 کے مرکزی مقابلے میں خامزات چیمائیف کو اسپلٹ فیصلے سے ہرا کر مڈل ویٹ چیمپئن شپ دوبارہ اپنے نام کر لی۔
BY Saba Parveen ·