تازہ خبریں طرز زندگی
اے آئی بوم سے تائیوان کی معیشت میں تیزی

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی عالمی مانگ نے تائیوان کی معیشت کو غیر معمولی رفتار دے دی ہے۔ دنیا کے جدید ترین سیمی کنڈکٹر چپس کا تقریباً 90 فیصد تائیوان میں تیار ہوتا ہے، جس نے اسے ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک اہم مرکز بنا دیا ہے۔

تائیوان کی معیشت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ ٹیکنالوجی مصنوعات کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سیمی کنڈکٹر کمپنی TSMC اس کامیابی کی سب سے بڑی مثال سمجھی جا رہی ہے، جو Nvidia اور Apple جیسی عالمی کمپنیوں کو چپس فراہم کرتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے یہ دور ترقی اور بہتر آمدنی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اے آئی اور ٹیکنالوجی سے متعلق بڑے ایونٹس اور سرمایہ کاری نے تائیوان کی عالمی حیثیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔

تاہم بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ اس معاشی ترقی کے فوائد سب تک یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے۔ ٹیک سیکٹر سے باہر کام کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کی تنخواہیں کم ہیں جبکہ رہائش اور روزمرہ اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ تائیوان ایک “کے شیپڈ اکانومی” بنتا جا رہا ہے، جہاں ایک طبقہ تیزی سے خوشحال ہو رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ معاشی دباؤ کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق ماضی میں تائیوان کی معیشت چھوٹے اور درمیانے کاروباروں پر قائم تھی، جس سے ترقی کے فوائد زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم ہوتے تھے۔ لیکن اب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں زیادہ تر سرمایہ کاری اور منافع اپنے ہاتھ میں لے رہی ہیں۔

حالیہ سروے کے مطابق بہت سے خاندان مہنگائی اور گھروں کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مالی پریشانی محسوس کر رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ نہیں ہیں، خود کو معاشی ترقی سے دور سمجھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تائیوان کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اے آئی سے حاصل ہونے والی معاشی ترقی کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔

News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·