غزہ کی پٹی کے شہر دیر البلح میں قائم “لاپتہ افراد کے قبرستان” نے جنگ کی انسانی تباہی کی ایک دردناک تصویر پیش کی ہے۔ اس قبرستان میں سینکڑوں ایسی لاشیں دفن ہیں جن کی شناخت اب تک ممکن نہیں ہو سکی۔
یہ لاشیں تباہ شدہ عمارتوں، اسپتالوں اور سڑکوں سے نکالی گئی تھیں۔ بہت سے خاندانوں کو یقین ہے کہ ان کے لاپتہ عزیز انہی قبروں میں دفن ہو سکتے ہیں، مگر شناخت نہ ہونے کے باعث وہ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
26 سالہ لینا العاصی بھی اپنے شوہر جہاد طافش کی تلاش میں مسلسل اس قبرستان آتی رہتی ہیں۔ اکتوبر 2023 میں غزہ سٹی پر شدید اسرائیلی بمباری کے دوران ان کے شوہر لاپتہ ہو گئے تھے جبکہ لینا اپنے دو بچوں کے ساتھ محفوظ مقام پر منتقل ہو گئی تھیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور اسپتالوں سے بارہا رابطے کے باوجود لینا کو آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کے شوہر زندہ ہیں، زخمی ہیں یا جاں بحق ہو چکے ہیں۔
2025 میں جنگ بندی کے بعد کچھ لاشیں شناخت کے لیے اسپتالوں میں لائی گئیں، مگر بیشتر لاشیں بری طرح مسخ اور خراب حالت میں تھیں، جس کی وجہ سے شناخت انتہائی مشکل ہو گئی۔
لینا کو ایک لاش اپنے شوہر سے مشابہ لگی، لیکن تب تک اسے ایک نمبر کے ساتھ بغیر نام کے دفن کیا جا چکا تھا۔
مقامی حکام کے مطابق غزہ میں قبرستانوں کی کمی اور مسلسل بڑھتی ہلاکتوں کے باعث اس خصوصی قبرستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہاں تقریباً 1400 قبروں کی گنجائش موجود ہے۔
اگرچہ فرانزک ٹیمیں لاشوں کے نمونے اور تصاویر محفوظ کر رہی ہیں، مگر غزہ میں ڈی این اے ٹیسٹنگ کی سہولت نہ ہونے کے باعث شناخت کا عمل تقریباً ناممکن بنا ہوا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے خاندان شدید ذہنی اذیت اور بے یقینی کا شکار ہیں کیونکہ وہ امید اور غم کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔