شمال مغربی نیپال میں بدھ کی صبح مسلسل دو مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد کئی علاقوں میں لوگوں کے درمیان خوف اور تشویش پیدا ہوگئی۔ دونوں زلزلے تقریباً تین گھنٹے کے وقفے سے آئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ابھی تک کسی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے اور نہ ہی کسی بڑے ڈھانچے کے نقصان کی تصدیق ہوئی ہے۔
پہلا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 1:51 بجے ریکارڈ کیا گیا۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.5 تھی۔ زلزلے کا مرکز مگو ضلع کے کلائی علاقے کے آس پاس بتایا گیا ہے۔ رات کے وقت اچانک زمین ہلنے سے کئی علاقوں میں لوگوں میں خوف پھیل گیا اور لوگ احتیاط کے طور پر اپنے گھروں سے باہر بھی نکل آئے۔
پہلے زلزلے کے تقریباً تین گھنٹے بعد ایک مرتبہ پھر زمین ہلی۔ صبح تقریباً 4:28 بجے 4.2 شدت کا دوسرا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسرے زلزلے کا مرکز بھی مگو ضلع کے کلائی علاقے کے آس پاس بتایا گیا ہے۔ مختصر وقفے میں دو مرتبہ زلزلہ آنے سے مقامی لوگوں کی تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا۔
زلزلے کے جھٹکے صرف مگو ضلع تک محدود نہیں رہے بلکہ پڑوسی اضلاع ڈولپا اور جُملا میں بھی محسوس کیے گئے۔ پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں زلزلے کے جھٹکوں کے بعد نقصان کا فوری اندازہ لگانا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے، اسی وجہ سے حکام مختلف علاقوں سے معلومات جمع کر رہے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ زلزلے کے باعث گھروں، سرکاری عمارتوں، سڑکوں یا دیگر بنیادی ڈھانچوں کو کسی قسم کا نقصان تو نہیں پہنچا۔ اس کے علاوہ زلزلے کے بعد آنے والے ممکنہ آفٹر شاکس پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
نیپال زلزلوں کے لحاظ سے ایک حساس خطے میں واقع ہے۔ ملک کا جغرافیائی محل وقوع اسے زلزلے کی سرگرمیوں کے لیے حساس بناتا ہے اور یہاں وقتاً فوقتاً مختلف شدت کے زلزلے محسوس کیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکام زلزلے کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھتے ہیں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو تیار رکھا جاتا ہے۔
تازہ زلزلے ایسے وقت میں آئے ہیں جب نیپال پہلے ہی حالیہ قدرتی آفات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ 26 اگست کو اچانک آنے والے سیلاب نے ملک کے کئی علاقوں کو متاثر کیا تھا۔ سیلاب کے باعث کئی مقامات پر معمول کی زندگی متاثر ہوئی اور لوگوں کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حالیہ سیلاب کے بعد زلزلے کے مسلسل دو جھٹکوں نے لوگوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ تاہم فی الحال ان دونوں زلزلوں کے نتیجے میں کسی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ حکام دور دراز علاقوں سے بھی معلومات حاصل کر رہے ہیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
حکام ممکنہ آفٹر شاکس کے حوالے سے بھی محتاط ہیں۔ زلزلے کے بعد مزید جھٹکے محسوس کیے جا سکتے ہیں، اسی لیے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی نئی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔
ریلیف اور سیکیورٹی سے متعلق اداروں کو بھی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے الرٹ رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے جھٹکے، جانی نقصان یا عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع ملنے کے بعد ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
فی الحال نیپال میں صورتحال نگرانی میں ہے۔ انتظامیہ زلزلے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور خاص طور پر دور دراز علاقوں میں ممکنہ نقصان اور مزید جھٹکوں کے امکانات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔






.jpg)
.jpg)






.webp)
