تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
بحیرہ عرب میں بھارتی اور پاکستانی بحری جہازوں میں ٹکر، پاکستانی سفارت کار طلب


شمالی بحیرہ عرب کے بین الاقوامی سمندری علاقے میں بھارتی اور پاکستانی بحری جہازوں کے درمیان ٹکر کے واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کے سفارتی نمائندے کو طلب کرکے احتجاج درج کرایا ہے۔ یہ واقعہ 15 ستمبر کی شام پیش آیا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے 16 ستمبر کو نئی دہلی میں پاکستان کے ناظم الامور ساد احمد وڑائچ کو طلب کیا اور واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔ 

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق اس واقعے میں پاکستانی بحریہ کی ایک یونٹ اور بھارتی بحریہ کے ایک جہاز کے درمیان ٹکر ہوئی۔ بھارت نے پاکستانی بحری یونٹس کے طرز عمل کو ناقابل قبول اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا اور اس کے نتیجے میں کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ 

بھارت نے اس واقعے کو 1991 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے اس معاہدے سے بھی جوڑا ہے جس میں فوجی مشقوں، جنگی مشقوں اور فوجی نقل و حرکت کے بارے میں پیشگی اطلاع دینے کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی بحری جہاز کا طرز عمل اس معاہدے کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی کے زمرے میں 

بھارت کی جانب سے طلب کیے گئے پاکستانی ناظم الامور سے کہا گیا کہ وہ پاکستان کے متعلقہ حکام تک یہ بات پہنچائیں کہ بحری سرگرمیوں کے دوران فوجی یونٹس ضروری احتیاط برتیں اور دونوں ممالک کے درمیان موجود متعلقہ معاہدوں کی شقوں کا احترام کریں۔ بھارت نے کہا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے متعلقہ ضوابط پر عمل ضروری ہے۔ 

بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی سفارتی نمائندے کو طلب کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں اپنے ناظم الامور کو بھی پاکستان کی وزارت خارجہ کے سامنے اسی معاملے پر احتجاج درج کرانے کی ہدایت دی ہے۔ اس طرح یہ معاملہ دونوں ممالک کے سفارتی ذرائع سے باضابطہ طور پر اٹھایا گیا ہے۔ 

رپورٹس کے مطابق واقعے کے وقت بھارتی بحریہ کا جہاز معمول کی نگرانی کی کارروائی پر تھا۔ بھارتی مؤقف کے مطابق پاکستانی بحری جہاز تیز رفتاری سے بھارتی جہاز کے قریب آیا اور اس کی نقل و حرکت کو غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں ٹکر ہوئی۔ تاہم اس واقعے میں کسی بڑے نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ 

اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ٹکر بین الاقوامی سمندری علاقے میں ہوئی۔ ایک ہی سمندری علاقے میں فوجی جہازوں کی موجودگی کے دوران محفوظ فاصلہ اور احتیاطی تدابیر انتہائی اہم ہوتی ہیں۔ کسی بھی غیر محفوظ نقل و حرکت یا غلط فہمی کے نتیجے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب دونوں ممالک کے تعلقات حساس نوعیت کے ہوں۔

1991 کا بھارت پاکستان معاہدہ فوجی مشقوں، جنگی مشقوں اور فوجی نقل و حرکت کے بارے میں پیشگی اطلاع دینے سے متعلق ہے۔ بھارتی حکومت نے موجودہ واقعے کے حوالے سے خاص طور پر اس معاہدے کی دفعہ 10 کا حوالہ دیا ہے۔ 

فی الحال دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق اس ٹکر کے نتیجے میں کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ بھارت کی جانب سے احتجاج درج کرائے جانے کے بعد یہ معاملہ اب سفارتی سطح پر زیر بحث ہے۔ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام سمندری سرگرمیوں اور باہمی معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے اس معاملے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
 

News Image

یوپی کابینہ کا بڑا فیصلہ، جلال آباد کا نام تبدیل کرکے پرشورام پوری رکھا جائے گا

  • اتر پردیش کابینہ نے شاہجہاں پور کے جلال آباد کا نام پرشورام پوری رکھنے اور اسٹارٹ اپ پالیسی 2026 سمیت 27 تجاویز کی منظوری دے دی۔
BY Saba Parveen ·