ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ دونوں ممالک ایک ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، لیکن حالیہ امریکی حملوں نے ایرانی قیادت کے شکوک کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا پر جنوبی صوبے ہرمزگان میں حملہ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب یعنی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل لانچنگ سائٹس اور ایرانی بحری سرگرمیوں کو “دفاعی کارروائی” کے تحت نشانہ بنایا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مفاہمتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو بیرونِ ملک منجمد فنڈز تک محدود رسائی دی جا سکتی ہے اور مستقبل میں جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تاہم ایران کے اندر اس معاملے پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ کئی اعلیٰ سیاسی اور عسکری رہنما واضح کر چکے ہیں کہ ایران ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو اس کی خودمختاری یا علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کرے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا اور خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔ لیکن سخت گیر حلقے امریکا پر اعتماد کرنے کے خلاف مسلسل خبردار کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایرانی قیادت کو خدشہ ہے کہ کوئی عارضی معاہدہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مستقبل میں مزید فوجی کارروائیوں کی تیاری کا موقع دے سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کسی بھی معاہدے سے پہلے پابندیوں میں واضح نرمی اور آئندہ جنگ نہ ہونے کی ضمانت چاہتا ہے، ورنہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی برقرار رہے گی۔