تازہ خبریں طرز زندگی
جنگ کے 80ویں روز ٹرمپ کی ایران کو وارننگ، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

ایران، امریکا اور اسرائیل سے متعلق جنگ اپنے 80ویں روز میں داخل ہو گئی جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ تنازع ختم کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران کو جلد معاہدے کی طرف بڑھنا ہوگا ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ واشنگٹن اور اسرائیل ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر غور کر رہے ہیں۔

ایران نے بھی سخت ردعمل دیا۔ ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے کہا کہ ملک کی مسلح افواج امریکا یا اسرائیل کی کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایران کی مصلحتی کونسل کے رکن اور سابق پاسداران انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے بھی واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

علاقائی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب سعودی عرب نے اعلان کیا کہ اس نے عراقی فضائی حدود سے داخل ہونے والے تین ڈرون مار گرائے۔

یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ پر ڈرون حملے کے باعث آگ لگ گئی تھی۔

یو اے ای حکام کے مطابق حملے میں پلانٹ کے اندرونی حصے سے باہر واقع ایک برقی جنریٹر کو نشانہ بنایا گیا تاہم کسی قسم کے تابکار اخراج یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ادھر اسرائیل نے نازک جنگ بندی میں توسیع کے باوجود جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں۔

اسرائیلی فوج نے متعدد قصبوں کے لیے نئی انخلا وارننگز جاری کرنے کے بعد الزراریہ اور طیر دبہ سمیت کئی علاقوں پر حملے کیے۔

لبنانی میڈیا کے مطابق حملوں میں جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

واشنگٹن میں بھی ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

ریپبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم نے ٹرمپ سے ایران پر دباؤ مزید بڑھانے اور اس کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب سابق رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے ایران میں امریکی فوج بھیجنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا اقدام امریکا کے اندر سیاسی بے چینی پیدا کر سکتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق جرمنی میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے اسلحہ لے جانے والے درجنوں امریکی کارگو طیارے حال ہی میں تل ابیب پہنچے ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ ممکنہ براہ راست تصادم کی تیاری کر رہا ہے اور مستقبل میں ایرانی تنصیبات پر حملوں میں حصہ لے سکتا ہے۔

عالمی منڈیوں نے بھی جاری غیر یقینی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔

سفارتی تعطل اور علاقائی تیل سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 111 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو حالیہ بلند ترین سطحوں کے قریب ہے۔

یہ جنگ مسلسل پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو بڑھا رہی ہے جبکہ سفارتی کوششیں کسی بڑی پیش رفت میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں اور فوجی کارروائیوں کے ساتھ سیاسی بیانات بھی مزید سخت ہوتے جا رہے ہیں۔

News Image

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے تو “طویل اور دردناک” جوابی کارروائیاں ہوں گی

  • تہران نے خلیجی خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے جبکہ کمزور جنگ بندی اور جاری ناکہ بندی کے باوجود امریکہ کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔
BY Saba Parveen ·