تازہ خبریں طرز زندگی
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان ایرانی صدر پیزشکیان بھارت آئیں گے، برکس اجلاس میں ہوں گے شریک


نئی دہلی:ایران کے صدر مسعود پیزشکیان ستمبر 2026 میں بھارت کا دورہ کریں گے اور نئی دہلی میں منعقد ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ 2026 میں بھارت برکس کی صدارت کر رہا ہے اور اسی کے تحت نئی دہلی میں سربراہ اجلاس کی میزبانی کی جائے گی۔

ایرانی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عالمی سطح پر ایک اہم تشویش بنی ہوئی ہے۔ خطے کی سلامتی، سفارت کاری، توانائی اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے بھی صورتحال اہم سمجھی جا رہی ہے۔

 پیزشکیان برکس اجلاس میں شرکت کریں گے

ایرانی صدر برکس سربراہ اجلاس میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔ اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، ترقی، توانائی، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔

بھارت کی صدارت میں ہونے والا یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب عالمی سیاست اور معیشت میں تیزی سے تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔

 مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے درمیان دورہ اہم

ایرانی صدر کے دورہ بھارت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات علاقائی سیاست کے ساتھ ساتھ توانائی، تجارت اور عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے اور پیزشکیان کا دورہ بھارت دونوں ممالک کو علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی معاملات پر براہ راست بات چیت کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔

ایران بھارت کو اہم شراکت دار سمجھتا ہے

ایران کی جانب سے یہ اشارے دیے گئے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے بھارت کو ایک اہم اور تعمیری شراکت دار سمجھتا ہے۔

بھارت عالمی تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیتا رہا ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں علاقائی امن اور استحکام کا معاملہ اہم ہوسکتا ہے۔

دو طرفہ تعلقات پر بھی بات چیت متوقع

پیزشکیان کے دورہ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔

تجارت، توانائی، رابطہ کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی معاملات دونوں ممالک کے درمیان گفتگو کے اہم موضوعات ہوسکتے ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے درمیان بھارت اور ایران کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

برکس میں ایران کا کردار

ایران برکس کے توسیع شدہ گروپ کا حصہ ہے۔ ایسے میں ایرانی صدر کی اجلاس میں شرکت برکس کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

برکس کے پلیٹ فارم پر بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک عالمی جنوب سے متعلق مسائل پر بھی گفتگو کرسکتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانا اور عالمی اداروں میں اصلاحات جیسے معاملات بھی زیر بحث آسکتے ہیں۔

عالمی اور علاقائی معاملات پر گفتگو

نئی دہلی میں ہونے والے اجلاس میں عالمی تجارت، اقتصادی تعاون، توانائی کی سلامتی، ٹیکنالوجی اور کثیر ملکی تعاون جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے علاقائی امن اور استحکام کا معاملہ بھی اہم ہوسکتا ہے۔ تاہم اجلاس کا حتمی ایجنڈا اور ممکنہ فیصلے سرکاری پروگرام کے مطابق ہی واضح ہوں گے۔

بھارت کے لیے بھی اہم موقع

بھارت کی برکس صدارت کے دوران ایرانی صدر کا دورہ نئی دہلی کے لیے سفارتی اعتبار سے اہم ہوگا۔ اس دورے سے بھارت کو ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے کو مزید مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

پیزشکیان کی موجودگی سے دونوں ممالک کے درمیان علاقائی صورتحال اور دو طرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر براہ راست بات چیت کا راستہ بھی ہموار ہوسکتا ہے۔

News Image

پیوٹن کے دورۂ بھارت پر بڑے دفاعی سودوں کی امید، سوخوئی اپ گریڈ اور Su-57 پر نظر

  • روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والی BRICS سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارت آسکتے ہیں۔ اس دوران بھارت اور روس کے درمیان دفاعی تعاون کے کئی اہم منصوبوں پر بات چیت متوقع ہے، جن میں Su-30MKI کی جدید کاری اور روس کے پانچویں نسل کے Su-57 لڑاکا طیارے سے متعلق پیشکش اہم ہے۔ تاہم کسی حتمی معاہدے کی سرکاری تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔
BY Shirin ·