اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی SIR کو لے کر جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ان اہل ووٹروں کی شناخت کرنا ہے جو SIR کے دوران کسی وجہ سے ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں یا جن کے نام حتمی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو سکے۔ اس کے ساتھ پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں اور دیگر نئے اہل ووٹروں کے اندراج پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق یہ خصوصی مہم 20 ریاستوں کے ان علاقوں میں چلائی جائے گی جہاں ووٹر لسٹ میں ترمیم اور نظرثانی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ریاستی چیف الیکٹورل افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں اہل ووٹر ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد مقامی انتخابی عملے کے ذریعے ان ووٹروں سے رابطہ کیا جائے گا۔
اس خصوصی مہم میں بوتھ لیول افسران یعنی BLO کا کردار اہم ہوگا۔ انہیں موجودہ ووٹر لسٹ کا SIR سے پہلے کی ووٹر لسٹ کے ساتھ موازنہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس عمل کے ذریعے ایسے ووٹروں کی شناخت کی جائے گی جن کے نام پہلے کی ووٹر لسٹ میں موجود تھے لیکن بعد میں تیار کی گئی حتمی ووٹر لسٹ میں ان کے نام موجود نہیں ہیں۔
جن ووٹروں کی شناخت کی جائے گی، ان کی گھر گھر جاکر تصدیق کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے BLO کو ہر ہفتے تقریباً 20 سے 25 ووٹروں تک پہنچنے کا ہدف دیا ہے۔ اس کے تحت تقریباً ایک ماہ کے اندر تصدیق کا عمل مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
خصوصی مہم میں صرف ان ووٹروں کی جانچ نہیں کی جائے گی جو SIR کے دوران ووٹر لسٹ سے رہ گئے ہیں، بلکہ ان نوجوانوں کو بھی ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے گا جو پہلی بار ووٹ دینے کے اہل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ایسے اہل شہریوں کے اندراج پر بھی توجہ دی جائے گی جن کا نام ابھی تک ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہے۔
BLO تصدیق کے دوران اہل ووٹروں سے Form 6 کے ذریعے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے درخواست بھی حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام سے ان اہل شہریوں کے لیے ووٹر رجسٹریشن کا عمل آسان ہونے کی توقع ہے جو ابھی تک ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو سکے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے خصوصی مہم کے دوران شفافیت برقرار رکھنے کے لیے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس عمل کے دوران شناخت کیے گئے ووٹروں سے متعلق معلومات تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس یعنی BLA کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ اس سے ووٹر لسٹ میں ہونے والی تبدیلیوں اور نئے اندراجات کے بارے میں متعلقہ فریقوں کو معلومات حاصل ہو سکیں گی۔
یہ خصوصی مہم ایسے وقت میں شروع کی جا رہی ہے جب SIR کے عمل کو لے کر سیاسی اور عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بعض فریقوں کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ SIR کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے یا وہ حتمی لسٹ میں شامل نہیں ہو سکے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ SIR سے متعلق فیصلے مقررہ طریقہ کار کے تحت لیے گئے اور تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے۔
اب خصوصی مہم کے ذریعے ان اہل ووٹروں تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی جن کے نام کسی وجہ سے حتمی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو سکے۔ پرانی اور موجودہ ووٹر لسٹ کا موازنہ، گھر گھر تصدیق اور نئے ووٹروں سے درخواستیں حاصل کرنے کے ذریعے ووٹر ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔
اس مہم کے دوران BLO کو مقامی سطح پر ووٹروں کی شناخت اور تصدیق کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہیں گھر گھر جاکر معلومات حاصل کرنے، اہل ووٹروں کی تصدیق کرنے اور ضرورت پڑنے پر Form 6 کے ذریعے درخواست حاصل کرنے کا کام کرنا ہوگا۔
خصوصی مہم مکمل ہونے کے بعد اہل ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے اور متعلقہ ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کا عمل مقررہ قواعد کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔ اس طرح ان لوگوں کو بھی ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کا موقع ملے گا جو SIR کے دوران کسی وجہ سے رہ گئے تھے یا جو پہلی بار ووٹ دینے کے اہل ہوئے ہیں۔






.jpg)
.jpg)






.webp)
