تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
وزیراعظم مودی سے بات کرتے ہوئے کیپٹن سمت مچھار جذباتی، کہا ہنومان چالیسا نے حوصلہ دیا


وزیراعظم نریندر مودی نے فلائی دبئی کے پائلٹ کیپٹن سمت مچھار سے فون پر بات کی اور طیارے میں پیش آنے والے سنگین واقعے کے بعد ان کی خیریت دریافت کی۔ گفتگو کے دوران کیپٹن سمت مچھار جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ طیارے میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے دوران انہیں کن حالات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے کس طرح صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کی۔

کیپٹن سمت مچھار نے وزیراعظم کو بتایا کہ واقعے کے دوران وہ خود اپنی جان بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ اسی وقت انہیں یہ احساس بھی تھا کہ اگر انہوں نے ہمت ہار دی تو طیارے میں موجود بڑی تعداد میں مسافروں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے خود کو سنبھالا اور صورتحال پر قابو پانے کی کوشش جاری رکھی۔

گفتگو کے دوران کیپٹن مچھار نے اپنی مذہبی عقیدت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی انہیں تکلیف یا مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ہنومان چالیسا پڑھتے ہیں۔ طیارے میں پیدا ہونے والی اس مشکل صورتحال کے دوران بھی وہ ہنومان چالیسا پڑھتے رہے۔ ان کے مطابق اس عمل سے انہیں مشکل وقت میں ذہنی طور پر مضبوط رہنے میں مدد ملی۔

وزیراعظم مودی سے بات کرتے ہوئے کیپٹن مچھار جذباتی ہوگئے اور کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے فون آنا ان کے لیے بہت اہم اور باعث فخر ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو اپنا ایک بڑا حوصلہ اور مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں وزیراعظم کی جانب سے حوصلہ افزائی ان کے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔

کیپٹن مچھار نے دوران واقعہ لگنے والی چوٹوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق انہیں کئی چوٹیں آئی تھیں، لیکن انہوں نے خود سے کہا کہ انہیں اٹھنا ہوگا اور کچھ کرنا ہوگا۔ اسی عزم کے ساتھ انہوں نے اپنی حالت کے باوجود صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش جاری رکھی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کیپٹن سمت مچھار کے حوصلے، حاضر جوابی اور مشکل حالات میں ذمہ داری نبھانے کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

گفتگو کے دوران وزیراعظم نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد کے لیے بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کیپٹن مچھار کو یقین دلایا کہ ضرورت پڑنے پر ہندوستانی مشنز کی جانب سے انہیں اور ان کے خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کیپٹن مچھار کی واپسی کا منتظر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جلد صحت یابی کے لیے ملک بھر میں لوگوں نے دعائیں کی ہیں۔

اس سے پہلے وزیراعظم نریندر مودی نے کیپٹن مچھار کی اہلیہ اور والدین سے بھی بات کی تھی۔ اس دوران انہوں نے خاندان کو یقین دلایا تھا کہ ہندوستانی مشنز کی جانب سے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

بتایا گیا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 دبئی سے تل ابیب کی جانب روانہ ہوئی تھی۔ دوران پرواز طیارے کے اندر ایک سنگین ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔ واقعے کے دوران کاک پٹ میں صورتحال خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اس واقعے کے دوران کاک پٹ میں ایک تصادم کی صورتحال پیدا ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ کیپٹن سمت مچھار کو اس دوران چوٹیں آئیں، لیکن انہوں نے طیارے اور مسافروں کی حفاظت کے لیے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش جاری رکھی۔

صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کاک پٹ تک رسائی کا راستہ کھولا گیا، جس کے بعد کیبن کریو اور بعض مسافروں نے بھی صورتحال کو قابو کرنے میں مدد کی۔ اس کے بعد طیارے میں موجود مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے۔

کیپٹن مچھار کی وزیراعظم مودی کے ساتھ گفتگو میں اس بات پر خاص توجہ رہی کہ انہیں واقعے کے دوران کس ذہنی دباؤ اور خطرے کا سامنا تھا۔ ایک طرف وہ خود زخمی تھے، جبکہ دوسری طرف طیارے میں موجود مسافروں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ان کے سامنے تھی۔

کیپٹن مچھار نے بتایا کہ زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے خود کو متحرک رکھنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں صورتحال کا سامنا کرنا تھا اور طیارے میں پیدا ہونے والے بحران کو قابو میں کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا تھا۔

وزیراعظم اور پائلٹ کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کے بعد طیارے میں پیش آنے والے واقعے اور کیپٹن مچھار کے کردار پر توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ واقعے کے مکمل حالات اور طیارے کے اندر پیش آنے والے واقعات سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ تحقیقات اور سرکاری معلومات کے بعد واضح ہوں گی۔

News Image

دہلی این سی آر میں آلودگی کا خطرہ، AQI 300 سے تجاوز، GRAP-1 نافذ

  • دہلی این سی آر کے کئی علاقوں میں فضائی آلودگی بڑھ گئی ہے اور ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیا ہے۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حکام نے گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (GRAP) کا پہلا مرحلہ نافذ کر دیا ہے۔ رات کے درجہ حرارت میں کمی، ہوا کی رفتار سست ہونے، گاڑیوں کے دھوئیں اور گردوغبار کو آلودگی بڑھنے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
BY SHIRIN ·