نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والی BRICS سربراہی کانفرنس سے پہلے بھارت اور روس کے درمیان دفاعی تعاون ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی BRICS اجلاس میں شرکت متوقع ہے اور ان کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں اہم تجاویز پر پیش رفت ہوسکتی ہے۔
بھارت 2026 میں BRICS کی صدارت کررہا ہے اور 18ویں BRICS سربراہی کانفرنس نئی دہلی میں منعقد ہوگی۔
بھارت اور روس کے درمیان کئی دہائیوں سے مضبوط دفاعی شراکت داری رہی ہے۔ Su-30MKI لڑاکا طیارے، BrahMos میزائل اور T-90 ٹینک اس تعاون کی نمایاں مثالیں ہیں۔
Su-30MKI کی بڑی جدید کاری
بھارت اپنے Su-30MKI لڑاکا طیاروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بڑے جدید کاری پروگرام پر کام کررہا ہے۔ حالیہ رپورٹس میں ’Super Sukhoi‘ پروگرام کا ذکر ہے، جس کے تحت 84 طیاروں میں جدید ریڈار، ایویونکس، طویل فاصلے کے ہتھیار اور بہتر سینسر فیوژن جیسی صلاحیتیں شامل کی جانی ہیں۔
اس منصوبے کی لاگت تقریباً 60,000 سے 65,000 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ موجودہ Su-30MKI طیاروں کو آنے والے کئی برسوں تک زیادہ مؤثر اور جدید بنایا جاسکے۔
اس اپ گریڈ کے بعد طیاروں کی نگرانی، ہدف کی شناخت، الیکٹرانک وارفیئر اور جنگی صلاحیت بہتر ہونے کی توقع ہے۔
البتہ طیاروں کی تعداد کے حوالے سے مختلف رپورٹس میں مختلف اعداد سامنے آئے ہیں۔ حالیہ رپورٹوں میں بڑے Super Sukhoi پروگرام کے لیے 84 طیاروں کا ذکر ہے۔ اس لیے کسی حتمی تعداد یا معاہدے کو سرکاری اعلان کے بغیر حتمی نہیں سمجھا جاسکتا۔
روس کی Su-57 پیشکش
دوسرا بڑا معاملہ روس کے پانچویں نسل کے Su-57 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کا ہے۔
جون 2026 میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا تھا کہ روس بھارت کے ساتھ Su-57 کی مشترکہ ترقی اور پیداوار کے لیے تیار ہے اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون کرسکتا ہے۔
Su-57 روس کا پانچویں نسل کا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ہے۔ بھارتی فضائیہ کے پاس اس وقت کوئی آپریشنل پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ نہیں ہے، جبکہ بھارت کا مقامی AMCA پروگرام ابھی ترقی کے مرحلے میں ہے۔ اسی وجہ سے Su-57 کی روسی پیشکش بھارت کی فضائی طاقت کے مستقبل کے حوالے سے اہم سمجھی جارہی ہے۔
روس بھارت کو Su-57 کے لیے مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی تعاون اور بھارتی نظام کو طیارے میں شامل کرنے کی پیشکش کرچکا ہے۔ تاہم بھارت نے ابھی تک اس طیارے کی خرید یا مشترکہ ترقی کے بارے میں کوئی حتمی عوامی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
بھارت کے لیے Su-57 کیوں اہم ہے؟
بھارتی فضائیہ کو جدید لڑاکا طیاروں اور اپنی مجموعی فضائی جنگی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے پانچویں نسل کی ٹیکنالوجی بھارت کی دفاعی منصوبہ بندی کا اہم موضوع ہے۔
روس کی پیشکش صرف طیارے کی خرید تک محدود نہیں ہے۔ ماسکو نے مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بھارتی ساختہ نظام کو طیارے میں شامل کرنے کی بات کی ہے۔ اگر ایسا تعاون آگے بڑھتا ہے تو یہ بھارت کی دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کی پالیسی سے بھی مطابقت رکھ سکتا ہے۔
بھارت-روس دفاعی شراکت داری
بھارت اور روس کے دفاعی تعلقات روایتی خرید و فروخت سے آگے بڑھ کر مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی تعاون تک پہنچ چکے ہیں۔ BrahMos، Su-30MKI اور T-90 جیسے منصوبے اس شراکت داری کی مثال ہیں۔
حالیہ سرکاری معلومات میں بھی Su-30MKI اپ گریڈ اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجی تعاون کو جاری رکھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
اگر BRICS اجلاس کے دوران ان تجاویز پر نمایاں پیش رفت ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف بھارت کی فضائی طاقت کی جدید کاری پر بلکہ بھارت-روس اسٹریٹجک شراکت داری پر بھی پڑ سکتا ہے۔
کیا BRICS میں معاہدے پر دستخط ہوں گے؟
فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پیوٹن کے دورۂ بھارت کے دوران Su-30MKI اپ گریڈ یا Su-57 سے متعلق حتمی معاہدہ ضرور ہوگا۔
دستیاب معلومات سے یہ واضح ہے کہ روس نے Su-57 کے بارے میں مضبوط پیشکش کی ہے اور بھارت Su-30MKI جدید کاری کے پروگرام پر آگے بڑھ رہا ہے، لیکن کسی حتمی معاہدے کی تصدیق کے لیے سرکاری اعلان ضروری ہوگا۔
BRICS سربراہی اجلاس اس لیے بھارت-روس دفاعی مذاکرات کے لیے اہم پلیٹ فارم بن سکتا ہے، لیکن حتمی سودوں کی تفصیلات کا انتظار کرنا ہوگا۔






.jpg)
.jpg)




.webp)


